قوم کا کنگ بابر مینیا سے باہر نکلنے کا وقت آگیا، چلے ہوۓ کارتوسوں کی بجاۓ جوان خون پر انحصار کرنا ہوگا
چئرمین پی سی بی محسن نقوی جو اپنی انتظامی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کی بے پناہ قوت کے ساتھ ملک کے دشمنوں سے داخلی محاذ پر نبرد آزما ہیں کو بلا تاخیر پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلئے سخت فیصلے لینا ہوں گے
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت سے شکست کا زخم پوری طرح بھر بھی نہ پایا تھا کہ انگلینڈ کے ہاتھوں سپر ایٹ مرحلے میں ایک اور ہار نے پوری قوم کو ایک بار پھر دکھی کردیا۔ کرکٹ کے کھیل اور اس کے کھلاڑیوں سے دیوانہ وار محبت کرنے والی پاکستانی قوم اپنے پسندیدہ کھیل میں اچھی خبرن سننے کو ایک بار پھر ترس کر رہ گئی۔ کرکٹ کی بدولت کم اور کئی صورتوں میں تقریبا ناخواندہ کھلاڑی کروڑوں روپے کمانے کے باوجود گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل قوم کے جذبات سے کھیل رہے ہیں لیکن انہیں احتساب سمیت کسی چیز کا خوف نہیں۔ توقیر ضیاء ہو یا ذکاء اشرف، نجم سیٹھی ہو یا محسن نقوی کرکٹ بورڈ کا ہر چئیرمین ایک والد کی طرح کھلاڑیوں کی ہر جائز ناجائز خواہش پوری کرتا رہا لیکن کسی بھی موقع پر کھلاڑیوں نے ذمے داری کا ثبوت نہیں دیا تاہم اب وقت آگیا ہے کہ سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کی طرح کرکٹرز کا بھی کڑا احتساب کیا جاۓ اور ان کے معاوضوں کو پرفارمنس سے مشروط کر دیا جاۓ۔
ایک اور ورلڈ کپ سرجری کے بغیر گزر گیا لیکن اب قومی کرکٹ ٹیم کو سرجری کی بجاۓ بڑے آپریشن کی ضرورت ہے اگر چئیرمین پی سی بی نے امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے موقع پر اعلان شدہ سرجری کی ہوتی تو شاید آج حالات بہتر ہوتے تاہم دیر آۓ درست آۓ کے مصداق محسن نقوی کو جو اپنی انتظامی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کی بے پناہ قوت کے ساتھ ملک کے دشمنوں سے داخلی محاذ پر نبرد آزما ہیں بلا تاخیر پاکستان کرکٹ کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے سخت فیصلے لینا ہوں گے۔ حارث رؤف کی طرح بابر اعظم کی بھی ٹی ٹونٹی ٹیم سے رخصتی کا وقت آن پہنچا ہے کیونکہ قوم اب مزید کسی تجربے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ کپتان سلمان علی آغا جو خود کو اپنے مزاج کے برخلاف ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اپنی باقی ماندہ کرکٹ بچانے کیلئے ٹیم سے الگ ہوجانا چاہیۓ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹی ٹونٹی کھیلنے کی ضد میں انہیں ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑجائیں۔
قومی ٹیم کی حالیہ خراب کارکردگی کے بعد شائقین کرکٹ ٹیم سلیکشن، کوچ کی خراب حکمت عملی کپتان کے غلط فیصلوں سمیت کس کس چیز کا ماتم کریں۔ نام بڑے اور درشن چھوٹے کے مصداق حالیہ ورلڈ کپ میں بابراعظم، شاداب خان،صائم ایوب، شاہین آفریدی، عثمان خان، محمد نواز سمیت سب ہی کا شو فلاپ رہا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف بارش نے عزت رکھ لی ورنہ شاید آج ہمارے پاس اگر مگر کا بہانہ بھی موجود نہ ہوتا۔

