لاہورکا انتظامی ذمہ دار کون ؟

لاہور میں داتا دربار کے سامنے چند روز قبل پیش آنے والا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں یہ اس شہری نظام کا عکاس ہے جو برسوں سے غیر واضح ذمہ داریوں، ادارہ جاتی انتشار اور اختیارات کی تقسیم کے ذریعے عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے، ایک عورت اپنی معصوم بچی سمیت واسا کے مین ہول میں گر گئی اور ایک بڑے شہر کی تمام تر مشینری اس لمحے بے بس دکھائی دی، فوری اطلاع کا نظام مؤثر ثابت ہوا نہ سیف سٹی کے کیمرے فوری ریسپانس دے سکے اور نہ ہی ریسکیو بروقت پہنچ سکا، بعد ازاں کوئی ادارہ واضح طور پر ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نظر نہ آیا،جسکی وجہ سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک بڑی کمیٹی کو اصل حقائق ڈھونڈنے پڑے،اسی طرح حادثے کے فوری بعد جو منظرنامہ سامنے آیا وہ مزید تشویشناک تھا، مختلف محکموں کی جانب سے متضاد بیانات، سوشل میڈیا پر پھیلتی ہوئی غلط اطلاعات اور سرکاری سطح پر ابہام زدہ جواب نے یہ سوال پیدا کیا کہ آخر لاہور جیسے میگا سٹی میں ایمرجنسی رسپانس کا کوئی واضح کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود بھی ہے یا نہیں؟ اگر موجود ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آیا؟

یہ واقعہ ایک ایسے مقام پر پیش آیا جو مذہبی اعتبار سے حساس ہے ، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا ہوتا ہے، یہاں کھلا مین ہول کسی ایک دن کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ مسلسل نگرانی کے فقدان اور ذمہ داری کے تعین میں ناکامی کی علامت ہے، سوال یہ ہے کہ ایسے مقامات پر بنیادی شہری سہولیات کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟خاص طور پر اس وقت جب یہاں تعمیراتی کام بھی ہو رہا تھا،کمشنر لاہور، ضلعی انتظامیہ لاہور ، کیپٹل سٹی پولیس، ایل ڈی اے، ٹیپا، واسا، میٹروپولیٹن کارپوریشن ،ریسکیو سروس اور سیف سٹی ، یہ تمام ادارے لاہور میں شہری نظم و نسق کے دعوے دار ہیں مگر عملی طور پر ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو حتمی ذمہ داری لینے کے لیے سامنے آیا، ماضی میں ایسے مواقع پر واسا کا ہمیشہ یہ مؤقف ہوتا تھا کہ مین ہول اس کے دائرہ اختیار میں ہے، مگر سڑک یا اطراف کی نگرانی کسی اور کی ذمہ داری ہے، ایل ڈی اے کہتا ہے کہ یہ اس کا منصوبہ مگر عملدرآمد ایجینسی کوئی اور ہے ،اس بار ٹیپا کو ماننا پڑا کیونکہ داتا دربار کے باہر کام وہی کر رہی تھی وگرنہ ان کا موقف ہوتا کہ وہ منصوبہ مکمل کر کے ہنیڈ اوور کر چکے ہیں ، میٹروپولیٹن کارپوریشن ہمیشہ وسائل کی کمی کا رونا روتی اور ضلعی انتظامیہ تکنیکی معاملات کا کہہ کر خود کو الگ کر لیتی اور رہ گئی پولیس تو اس کا ازل سے ایک ہی موقف اور ہتھیارہوتا تھا اور ہے ،تشدد اور مار کٹائی۔

داتا دربار جیسا واقعہ جب بھی ہوتا ہے ،وہ اداروں کو ایکسپوز کرتے یہ بتاتا ہے کہ لاہور میں اختیارات اور ذمہ داریاں بکھری ہوئی ہیں، ہر ادارہ اپنی حد تک طاقت رکھتا ہے مگر کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے اداروں کو جوابدہ بنا سکے، ایک اور سنگین پہلو پولیس اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، ایمرجنسی کی صورت میں پولیس کا کردار محض لا اینڈ آرڈر تک محدود نہیں ہوتا بلکہ جائے وقوعہ کا کنٹرول، ہجوم کی منیجمنٹ، اور ریسکیو اداروں کو راستہ فراہم کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے، مگر جب پولیس انتظامیہ کو جوابدہ نہ ہو اور انتظامیہ کے پاس پولیس کو ہدایات دینے کا مؤثر اختیار نہ ہو تو نتیجہ افراتفری کی صورت میں نکلتا ہے، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھنے کو ملا۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ لاہور میں اتنی زیادہ سرکاری ایجنسیاں کیوں موجود ہیں، اور اگر موجود ہیں تو ان کے درمیان واضح کمانڈ اسٹرکچر کیوں نہیں؟ دنیا کے بڑے شہروں میں عموماً ایک بااختیار شہری سربراہ ہوتا ہے، جس کے تحت تمام میونسپل اور سروسز ڈیپارٹمنٹس کام کرتے ہیں، ان دنوں لاہور میں مقامی حکومتوں کا منتخب سربراہ موجود نہیں مگر اس کے متبادل بھی لاہور میں کوئی ایسا واحد سرکاری عہدہ موجود نہیں جو حتمی طور پر شہر کا ذمہ دار ہو،کیوں؟ضروری ہے کہ کسی ایک افسر کو مجموعی طور پر ذمہ دار بنا کر اسےتمام اختیارات دیے جائیںاور پولیس سمیت تمام ادارے اسے جوابدہ ہوں۔

حکومت پنجاب کے لیے یہ واقعہ ایک سنجیدہ تنبیہ ہے، محض بیانات، وقتی اور لوئر لیول کی معطلیاں یا رسمی انکوائریاں اس مسئلے کا حل نہیں، وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ کا نوٹس لیا اور اس پر گہری سنجیدگی دکھائی جو قابل تعریف ہے، مگر اتنے بڑے واقعہ پر سزا کے لئےہمیشہ کی طرح صرف چھوٹے اہلکاروں کو ہی کیوں چنا گیا ؟ ٹیپا جو اس حادثے کا پرائم ذمہ دار ہے ،اس کے چیف انجینئر سے کیوں باز پرس نہ کی گئی ،کل کلاں کو ایسے پر اجیکٹس کی بہتر تکمیل پر کریڈٹ کا وقت آتا تو وہ سب سے آگے کھڑے ہوتے ، انہیں کم از کم معطل تو ہونا چاہئے تھا،اسی طرح اس علاقے میں ٹریفک پولیس کی بھی کوئی ذمہ داری تھی ،اس سے پوچھ گچھ ہوئی نہ کوئی سزا ملی ؟یہ درست ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن علی اعجاز چند روز پہلے تعینات ہوئے ہیں ، ان کا کوئی قصور نہیں بنتا مگر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو سزا ملنی چاہئے تھی جس نے شائد کبھی اس علاقے کا وزٹ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا ،وہ کیوں بچ گئے،اگر انہیں معطل نہیں کرنا تو کم از کم او ایس ڈی ضرور بنانا چاہئے تھا ۔

اس واقعہ کے بعد ، ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور کے شہری نظم و نسق پر ازسرنو غور کیا جائے، واضح طور پر طے کیا جائے کہ شہر کا حتمی ذمہ دار کون ہے اور کس سطح پر کس ادارے کو جوابدہ ہونا ہے،ون سٹی، ون کمانڈ کا تصور اسی لیے اہم ہے،ایک ایسا نظام جس میں شہری خدمات فراہم کرنے والے تمام ادارے ایک ہی بااختیار کمان کے تحت کام کریں، جہاں حادثے کے بعد یہ بحث نہ ہو کہ معاملہ کس کے دائرہ اختیارمیں آتا ہے، بلکہ فوری طور پر یہ طے ہو کہ مسئلہ حل کیسے کرنا ہے اور ذمہ دار کون ہے،اسی طرح شہری سہولتوں کے محکموں اور ان کے اہلکاروں کی بہتر تربیت بھی ہو تو وہ خود ہی چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرلیتے ہیں ، جیسا کہ پچھلے دنوں فیصل آباد میں ہوا ،جب ایک ٹریفک وارڈن نے کھلے مین ہول پر کھڑے ہو کر اس وقت تک پہرہ دیا جب تک اس کا ڈھکن لگ نہ گیا،یقینی طور پر وہ اہلکاراور چیف ٹریفک افسر فیصل آباد قابل تحسین ہیں،اسی لئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس ٹریفک وارڈن کو خراج تحسین پیش کیا ۔

داتا دربار کے سامنے پیش آنے والا یہ حادثہ ایک ماں اور بچی کی جانوں تک محدود نہیں، یہ پورے حکومتی نظام کے لیے ایک سوال ہے،اگر آج بھی ہم نے اس واقعے سے سبق نہ سیکھا، اگر آج بھی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے وقتی ردعمل پر اکتفا کیا گیا تو کل کسی اور مقام پر، کسی اور وقت، یہی سوال پھر اٹھے گا ، اب یہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے کہ اس کو گورننس کی ناکامی تسلیم کر کے اصلاح کرنی ہے یا پھر اگلے حادثے تک خاموشی اختیار کرنی ہے ۔