وزیراعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے دورہ لاہور میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت
صحافیوں کو ٹارگٹ کرنے کے سلسلہ کا نوٹس نہ لیا گیا اور اسے نہ روکا تو آئندہ
کے پی کے وزیراعلی کے دورہ لاہور کا نہ صرف مکمل بائیکاٹ ہوگا بلکہ
کے پی کے سمیت پورے پاکستان میں صحافی ان کی کوریج کا بائیکاٹ کریں گے:ارشدانصاری
ہم سب صحافی برادری ہیں،ایک صحافی کی مشکل اور مسئلہ سب صحافی برداری کا مسئلہ ہے:ارشد انصاری
صحافی کسی کے بیانیہ کی صحافت نہ کریں:صدرلاہورپریس کلب کا اجلاس سے خطاب
لاہور(وقائع نگارخصوصی) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ،پنجاب یونین آف جرنلسٹس ، لاہور پریس کلب اور پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری کا مشترکہ ہنگامی اجلاس سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کی صدارت میں لاہور پریس کلب میں منعقدہ ہوا۔ جس سینئر صحافیوں الفت مغل ، عدنان شیخ ، راﺅ دلشاد ، محسن بلال ،وقاص غوری ،فصیح اللہ اورحبیب چوہان کو وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران پنجاب اسمبلی اور لاہور ہائیکورٹ میں تشدد کا نشانہ بنانے اور گھیراؤ کر کے ہراساں کرنے اور صحافیوں کی ٹرولنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلی سہیل آفریدی سے اپنے گارڈز کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور پی ٹی آئی کی قیادت سے اس معاملہ کا نوٹس لینے اور صحافیوں کو ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
صحافتی تنظیموں نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی قیادت اور وزیراعلی کے پی کے نے اس معاملہ پر صحافیوں کے تحفظ کے لئے ضروری اقدام نہ کیا تو آئندہ وزیراعلی کے پی کے کا پنجاب میں دورہ کے دوران ان کی میڈیاکوریج کامکمل بائیکاٹ کیا جائے گا بلکہ خیبر پختون خواہ سمیت پورے پاکستان میں ان کی نیوز کوریج کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
اجلاس میں سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے ولاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری، جنرل سیکرٹری پی یوجے قمرالزمان بھٹی، سیکرٹری پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری عباس نقوی ، جوائنٹ سیکرٹری سید فرزند علی، سینئر نائب صدر پی یوجے یوسف رضا عباسی ، کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز کی پنجاب سے رکن تمثیلہ چشتی ، لاہور پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ ، ممبر گورننگ باڈی اور دستور کے رہنما خواجہ سرمد فرخ ، شیر علی خالطی ، عدنان شیخ ، نواز طاہر ، حسنین اخلاق ، حبیب چوہان ، عطا اللہ چودھری ، حسنین چودھری ، صلاح الدین بٹ ،جمال احمد ، اصغر بھٹی ،محبوب عالم ، ناصر محمود ، جاوید ہاشمی اورصحافیوں کی کثیرتعدادنے شرکت کی ۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ بدقسمتی سے کے پی کے وزراءاعلی کے دورہ لاہور کے دوران صحافیوں کو سیکورٹی گارڈز اور ان وزیر اعلی کے ساتھ آئے افراد تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،ان واقعات کی ایک مکمل سیریل ہے، ماضی میں جب کبھی علی امین گنڈا پور پنجاب اور لاہور آئے تو صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب پھر سہیل آفریدی کے دورے کے دوران صحافیوں پر تشدد ہوا،ان کی ٹرولنگ کی جارہی ہے، پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کو جس طرح مارا گیا اس کا ثبوت مختلف فوٹیج میں نظر آتا ہے۔
ارشد انصاری نے کہا کہ سوال کرنا صحافی کا حق ہے اور بطور سیاستدان اگر کوئی چاہے تو وہ اس سوال کا جواب نو کمنٹس کہہ سکتا ہے مگر یہاں صحافی کو سوال کے بعد جس طرح ٹارگٹ کیا گیا اوراس واقعہ کے اگلے دن لاہور ہائیکورٹ میں محسن بلال اور حبیب چوہان کو مختلف وکلاءاور کارکنوں نے گھیراﺅ میں لے کرہراساں کیا وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں صحافیوں راو ¿ دلشاد ، عدنان شیخ ، الفت مغل فصیح اللہ اور وقاص غوری کو تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے سوالات میں صحافتی ضابط اخلاق پر عمل کریں اور کسی کے بیانیہ کو آگے مت بڑھائیں اور نہ ہی بیانیہ کی صحافت کریں بلکہ عوام تک حقائق پر مبنی خبریں پہنچائیں جبکہ ایسے ایونٹ کی کوریج کے موقع پر صحافی آپس میں الجھنے سے بھی گریز کریں۔ سب صحافی یاد رکھیں کہ وہ صحافی برداری کا حصہ ہیں اور کسی ایک صحافی کی مشکل اور مسئلہ سب صحافی برداری کی مشکل اور مسئلہ ہے۔اس معاملہ میں ہم سب ایک ہیں اور ہم نے اپنے اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام نمائندہ صحافی تنظمیں ارشد انصاری کی قیادت میں صحافیوں پر تشدد اور ان کی ٹرولنگ کے سنگین واقعات کے خلاف اور صحافیوں کے تحفظ کے مناسب اقدامات کے لئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور وزیر اطلاعات پنجاب سے نہ صرف ملاقات کریں گی بلکہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی قیادت اور پارلیمانی لیڈر سے بھی بات کی جائے گی کہ اس معاملہ میں وہ صحافیوں کے خلاف ذہن سازی کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اور آزادی صحافت کا احترام یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں اس معاملہ کو کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز کے روبرو پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور اس معاملہ پر یہ ذمہ داری کمیشن کی پنجاب کی رکن تمثیلہ چشتی کو سونپی گئی۔

