لاہور (نمائندہ خصوصی، پولیس، یونیورسٹی ذرائع)لاہور کی نجی جامعہ لاہور یونیورسٹی میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں جبکہ واقعے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں، تاہم سر پر کوئی شدید چوٹ نہیں آئی۔ واقعے کے فوراً بعد طالبہ کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ واقعے سے کچھ دیر قبل فون پر کسی سے بات کر رہی تھی۔ طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا ہے جو لاک ہے علاج کے بعد فون کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائیگا۔ تحقیقات جاری ہیں تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، پولیس کے مطابق مقدمے کا اندراج طالبہ کے والدین کی درخواست پر ہوگا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کی حفاظت اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام آن کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل کرتے ہوئے کلاسز آن لائن منتقل کرنے اور یونیورسٹی بلڈنگز کو وقتی طور پر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
پولیس اور یونیورسٹی ذرائع کے مطابق طالبہ فاطمہ نے یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی، جس کے بعد وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ طالبہ کو فوری طور پر لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس وقت وہ آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق مختلف ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ابتدائی طبی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔
طبی رپورٹ کے مطابق طالبہ تاحال ہوش میں نہیں آ سکی اور اس کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبہ کے دماغ میں باریک رگوں سے خون رس رہا ہے جبکہ دماغ میں شدید سوجن موجود ہے۔ اس کے علاوہ بایاں پھیپڑا بری طرح متاثر ہوا ہے۔
طبی معائنے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طالبہ کے دونوں پاؤں کی ایڑیوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں، ریڑھ کی ہڈی کے دوسرے اور تیسرے مہرے دب گئے ہیں جبکہ بائیں گھٹنے کی ہڈی بھی فریکچر ہو چکی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریضہ کو آئی سی یو میں منتقل کر کے ٹیوب کے ذریعے پھیپڑے کو بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ واقعے سے متعلق تمام طبی رپورٹس پولیس کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
دریں اثنا یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے بتایا کہ صبح یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی تھی، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ طالبہ اب خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبہ نے ستمبر میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ رجسٹرار کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں لوگ ذہنی دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
علی اسلم نے مزید بتایا کہ طالبہ کی حاضری مکمل تھی اور اس کا سی جی پی اے 3.14 تھا۔ ان کے مطابق سلیبس مکمل نہ ہونے یا تعلیمی دباؤ سے متعلق مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں، تاہم انکوائری مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔ اسی جامعہ میں چند دن قبل اویس سلطان نامی طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی، جس کے بعد لاہور یونیورسٹی میں طلبا کی ذہنی صحت، دباؤ اور حفاظتی انتظامات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

