لندن:ریفارم یوکے کے رہنما نائیجل فراج کا مہاجرین کی اجتماعی ملک بدری کا اعلان

لندن(اے ایف پی)سابق بریگزٹ رہنما اور ریفارم یوکے پارٹی کے سربراہ نائیجل فراج نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت برطانیہ میں حکومت بناتی ہے تو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے مہاجرین کو اجتماعی طور پر ملک بدر کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نائیجل فراج نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد برطانیہ کو یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق سے الگ کریں گے اور افغانستان، اریٹیریا سمیت ان ممالک کے ساتھ معاہدے کریں گے جہاں سے بڑی تعداد میں مہاجرین آتے ہیں تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مہاجرت اور پناہ گزینی ایک قومی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کے بقول انسانی حقوق کے موجودہ قوانین کو ختم کر کے پناہ کے دعووں اور ملک بدری کے خلاف اپیل کرنے کے حق کو ختم کیا جائے گا۔

فراج نے زور دیا کہ “ہم دوسروں کے ساتھ اچھے بھی رہ سکتے ہیں اور سخت بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے ثابت کیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ برطانوی عوام کی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ دنیا کی آمرانہ حکومتوں کے ذمہ دار نہیں بن سکتے، لیکن اپنی گلیوں میں خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت کے ذمہ دار ضرور ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فراج کا منصوبہ ہے کہ برطانیہ کے فضائی اڈوں پر 24 ہزار مہاجرین کو رکھنے کی سہولت قائم کی جائے، جس پر ڈھائی ارب پاؤنڈ لاگت آئے گی، اور روزانہ پانچ ملک بدری پروازوں کے ذریعے لاکھوں افراد کو واپس بھیجا جائے گا۔

اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو ان کے مطابق مہاجرین کو بحرِ اوقیانوس کے جنوبی حصے میں واقع برطانوی علاقے اسینشن آئی لینڈ پر منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ ایک واضح علامتی پیغام دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ حالیہ عوامی سروے میں مہاجرت برطانوی عوام کی سب سے بڑی تشویش کے طور پر سامنے آئی ہے، اور ریفارم یوکے پارٹی کو رائے عامہ میں نمایاں برتری حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں