لندن: سنگاپور کے بزنس مین سے کروڑوں پاؤنڈ مالیت کی ڈائنوسار کی نایاب ہڈیاں ضبط

لندن (رائٹرز)برطانوی حکام نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک معروف بزنس مین سے کروڑوں پاؤنڈ مالیت کی ڈائنوسار کی نایاب ہڈیوں، لندن میں موجود 9 فلیٹس اور قیمتی چینی فن پاروں کا ذخیرہ ضبط کر لیا۔

یہ کارروائی جرائم سے حاصل شدہ دولت کی واپسی کے مقدمے کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی۔

بدھ کے روز برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے سنگاپور کے شہری سُو بنگہائی اور ان کی کمپنی سُو ایمپائر لمیٹڈ کے ساتھ ایک تصفیہ طے کیا، جس کے تحت یہ تمام اثاثے “پروسیڈز آف کرائم ایکٹ” کے تحت ضبط کیے گئے۔

اس قانون کے تحت برطانوی حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے اثاثے واپس لے سکیں جو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے ہوں — خواہ ملزم کو عدالت سے سزا نہ بھی سنائی گئی ہو۔

ایجنسی نے مقدمے کی نوعیت یا الزامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں جن کی بنیاد پر سُو بنگہائی کے خلاف کارروائی کی گئی۔ضبط کیے گئے قیمتی اثاثوں میں دو ایلو سارَس (Allosaurus) اور ایک اسٹیگوسارَس (Stegosaurus) کے قدیم فوسل شدہ ڈھانچے شامل ہیں، جن کی عمر تقریباً 15 کروڑ سال بتائی جاتی ہے۔

یہ فوسلز گزشتہ سال کرسٹیز نیلام گھر سے ایک کروڑ 24 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 16.1 ملین ڈالر) میں خریدے گئے تھے۔ اُس موقع پر نیلام گھر نے ان کی تصاویر جاری کی تھیں جو کسی قدرتی تاریخ کے عجائب گھر کی نمائش سے مشابہت رکھتی تھیں۔

مقدمے میں برآمد کیے گئے 11 چینی فن پارے بھی شامل ہیں، جو 2022 میں نیلامی کے دوران چار لاکھ پاؤنڈ سے زائد میں خریدے گئے تھے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، ضبط شدہ اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا چوتھائی حصہ سُو بنگہائی کے نامزد بینک اکاؤنٹ میں جمع کرایا جائے گا۔نیشنل کرائم ایجنسی نے اس معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں