لندن ( نمائندہ خصوصی)لندن ہائی کورٹ میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کی جانب سے یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت دوسرے روز بھی جاری رہی۔ سماعت کا آغاز مدعی پر وکیلِ صفائی کی جرح سے ہوا، جس میں کئی اہم نکات زیر بحث آئے۔
لندن ہائی کورٹ میں جاری اس مقدمے کے دوسرے دن بھی بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کٹہرے میں موجود رہے، جہاں ان سے عادل راجہ کے وکیل نے مختلف سوالات کیے۔ جرح کے دوران بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے عدالت کو بتایا کہ یوٹیوبر عادل راجہ کی جانب سے کی گئی ٹوئٹس کے بعد نہ صرف انہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی فون پر دھمکیاں دی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “میرے بیٹے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اور اس کی امریکی یونیورسٹی کا پتہ بھی پبلک کیا گیا، جس سے میری فیملی کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔”
عدالت میں بیان دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے واضح کیا کہ اس مقدمے کے تمام اخراجات وہ ذاتی طور پر برداشت کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی ادارہ یا تنظیم نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں انتخابات سے متعلق دھاندلی کے الزامات پر فوج کی اعلیٰ سطح پر انکوائری ہوئی، جس کے بعد انہیں باقاعدہ طور پر بے گناہ قرار دے دیا گیا۔
یہ مقدمہ پاکستان کی سوشل میڈیا سیاست، ادارہ جاتی کردار اور بیرون ملک مقیم تنقید نگاروں کے خلاف قانونی کارروائی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

