لندن:2035 میں طلبہ کی روزمرہ زندگی میں مکمل سرکاری نگرانی پر بحث شروع

لندن( نمائندہ خصوصی)برطانیہ میں 2035 کیلئےمتعارف کرائے گئے ڈیجیٹل آئی ڈی نظام نے ملک بھر میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس کے تحت اسکول کے طلبہ کو کھانے، سفر، بجلی اور خریداری سمیت ہر سرگرمی کیلئےسرکاری اجازت درکار ہوگی۔ ناقدین نے اس اقدام کو “انتہائی کنٹرول پر مبنی نظام” قرار دیا ہے، جو شہری آزادیوں کیلئےخطرہ بن سکتا ہے۔

لندن کے اسکولوں میں متعارف کیے گئے “ڈیجیٹل آئی ڈی ماڈل” کے تحت ہر طالب علم کو ایک منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے، جو اُن کی روزمرہ سرگرمیوں جیسے کھانے کی مقدار، بجلی کے استعمال، سفر کے فاصلے اور حتیٰ کہ خریداری کے انداز کی نگرانی کرتا ہے۔

ڈیجیٹل اسسٹنٹ سسٹم کی جانب سے جاری کردہ خودکار پیغامات میں طلبہ کو مطلع کیا جاتا ہے.

“آپ نے اس ہفتے زیادہ گوشت خریدا ہے لہٰذا آپ کی ادائیگی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔”
“آپ اپنے کاربن کریڈٹ سے تجاوز کر چکے ہیں، کھانے تک رسائی عارضی طور پر منسوخ کر دی گئی ہے۔”
“آپ نے بجلی کا حد مقررہ استعمال عبور کر لیا ہے، اس لیے آپ کا اکاؤنٹ فی الحال معطل ہے۔”

اس اقدام کا مقصد “کاربن نیوٹرل برطانیہ 2050” کے اہداف کے حصول میں مدد دینا اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس نظام پر شدید تنقید کی ہے۔

برطانیہ کی سول لبرٹیز ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا”اگر بچوں کو بھی بنیادی ضروریات کیلئےسرکاری منظوری درکار ہے تو یہ مستقبل کیلئے ایک تاریک منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ یہ نگرانی کا ایسا جال ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں۔”

سوشل میڈیا پر بھی اس نظام کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں نے اسے “ڈیجیٹل غلامی” اور “ٹیکنالوجیکل آمریت” کے مترادف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل آئی ڈی نظام “شفافیت، حفاظت اور پائیداری” کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے اور ہر فرد کو اپنی “ماحولیاتی ذمہ داری” نبھانے میں مدد دے گا۔

برطانیہ میں اسکول سطح پر شروع کیا گیا یہ پائلٹ منصوبہ اب ملک بھر میں نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر اس نظام کے نتائج مثبت رہے تو دیگر یورپی ممالک بھی جلد اسی طرز پر “ڈیجیٹل شناختی کنٹرول” نافذ کر سکتے ہیں، جس سے آزادیِ فرد اور پرائیویسی کے عالمی تصورات میں بنیادی تبدیلی واقع ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں