کراچی(کلچرل ڈیسک)عیدالاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر پاکستانی فلمی صنعت میں ایک نئی روح پھونکی گئی ہے، جب دو بڑی مقامی فلمیں — ’لو گرو‘ اور ’دیمک‘ — سینما گھروں کی زینت بنیں۔ ان فلموں نے نہ صرف شائقین کو محظوظ کیا بلکہ باکس آفس پر بھرپور دلچسپی بھی حاصل کی۔
اداکار ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی جوڑی پر مبنی فلم ’لو گرو‘ ایک میگا بجٹ، میگا کاسٹ رومانوی کامیڈی ہے، جسے ندیم بیگ نے ڈائریکٹ کیا اور واسع چوہدری نے تحریر کیا ہے۔ فلم کو اے آر وائی فلمز کے بینر تلے ریلیز کیا گیا ہے، جبکہ پروڈیوسرز میں ہمایوں سعید بھی شامل ہیں۔
فلم میں ہمایوں ایک ’دل پھینک‘ عاشق کے روپ میں نظر آتے ہیں جو بعد ازاں سچی محبت کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ ماہرہ خان فنونِ لطیفہ سے شغف رکھنے والی ایک آزاد خیال لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ جاوید شیخ ان کے والد کے روپ میں شامل ہیں۔
فلم کی شوٹنگ لندن میں کی گئی اور ہمایوں کے مطابق یہ ان کے کیریئر کی سب سے مہنگی فلم ہے جس پر 25 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔ ہمایوں سعید نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فلم 100 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کرے گی۔
دوسری جانب فلم ’دیمک‘، جس کی ہدایتکاری رافع راشدی نے کی ہے ایک ہارر کامیڈی ہے جس میں سونیا حسین، فیصل قریشی، ثمینہ پیرزادہ، جاوید شیخ، بشریٰ انصاری اور ثمن انصاری جیسے نامور فنکار شامل ہیں۔ فلم کی کہانی ایک گھرانے کے گرد گھومتی ہے جہاں پراسرار قوتیں ان کی زندگی کو الجھا دیتی ہیں۔
سید مراد علی اس فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔ فلم کا ٹریلر اگرچہ مکمل کہانی ظاہر نہیں کرتا، لیکن اس کی جھلکیاں تجسس اور تفریح سے بھرپور ہیں۔
پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ ترکیہ کی ’سِجّین 8‘ اور انڈونیشیا کی ’جن 3‘ بھی عید کے موقع پر نمائش کیلئےپیش کی گئیں۔ تاہم اس بار بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ مقامی فلمی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں فلموں کے پریمیئرز کراچی میں منعقد ہوئے۔ ’دیمک‘ کا پریمیئر پہلے منعقد ہوا، جب کہ ’لو گرو‘ کا شاندار پریمیئر 5 جون کی شب کو ہوا، جس میں فلمی، سماجی اور کاروباری حلقوں کی شخصیات نے شرکت کی۔
تجزیہ کاروں اور فلمی مبصرین کے مطابق، ’لو گرو‘ کے پاس زیادہ بڑے بجٹ، مشہور کاسٹ اور مارکیٹنگ کی بدولت باکس آفس پر برتری حاصل کرنے کے قوی امکانات ہیں، تاہم ’دیمک‘ کو بھی مضبوط کہانی اور مقبول فنکاروں کے باعث خاصی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
عید پر سینما گھروں میں عوام کا جمِ غفیر نظر آیا۔ شائقین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فلمیں اب بین الاقوامی معیار کو چھو رہی ہیں، اور وہ اپنے پسندیدہ فنکاروں کو بڑی اسکرین پر دیکھ کر بے حد خوش ہیں۔

