لکسمبرگ کا بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

لکسمبرگ/نیو عرب/انادولو (انٹرنیشنل ڈیسک)یورپی ملک لکسمبرگ نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور حتمی فیصلہ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آغاز پر دیگر ممالک سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لکسمبرگ کے وزیرِاعظم لوک فریڈن اور وزیرِخارجہ زاویئر بیٹل نے اس معاملے پر ایک پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپی ممالک میں فلسطین کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔

لکسمبرگ طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن اب تک فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتا آیا تھا۔ اس اعلان کے بعد لکسمبرگ فلسطین کو تسلیم کرنے والا ساتواں مغربی ملک بن جائے گا، اس سے قبل فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بیلجیم اور مالٹا ایسا کر چکے ہیں۔

پرتگال کی حکومت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں اور صدرِمملکت سے مشاورت جاری ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں متعدد ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے لکسمبرگ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کی کوششوں کے عین مطابق ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات جنگ کے خاتمے اور امن کے فروغ پر عالمی اتفاقِ رائے کو مضبوط بنائیں گے اور دیگر ممالک کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں گے۔

اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے اب تک 149 فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں جبکہ امریکا اس عمل کی مخالفت کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں