لگژری جہاز، بڑی گاڑیاں اور بسیں

پنجاب میں انداز حکمرانی پر بحث کوئی نئی بات نہیں مگر بعض حالیہ فیصلوں نے ہمارے حالات و واقعات کو کچھ زیادہ ہی باعث تنقید بنا دیا ہے، ویسے عوام ایسے واقعات اور کاموں کے عادی ہو چکے ہیں،یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار دنوں کی بات نہیں،غور کریں پچھلے چند ماہ کے حکومتی اقدامات اور فیصلوں نے ہماری سماجی تقسیم کو بھی مزید ظاہر کر دیا ہے،حکمرانوں کے لئے ہمیشہ کی طرح پر آسائیش جہاز،بیوروکریٹک اشرافیہ کے لئے سینتالیس سو سی سی تک کی آرام دہ بڑی گاڑیاں اور عوام کے لئے بسیں اوروہ بھی ایسے ملک اور صوبے میں جس کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ،کسی نے شائد انہی حالات کے لئے لکھا تھا.
قرض کی پیتے تھے مےلیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
سوال یہ ہے، کیا یہ سب فیصلے اور پیدا کردہ حالات ایک ہی حکمرانی فلسفے کا حصہ ہیں؟ اور اگر ہیں تو اس فلسفے کی بنیاد کیا ہے،عوامی ضرورت یا سرکاری آسائش؟یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ عوام کے لئے اربوں ادھار لیں،اسے اپنے آپ،اپنی قریبی اشرافیہ اور تھوڑا بہت عوامی سہولیات پر لگائیں ،واہ واہ کرائیں ،نعرے لگوائیں اور پھر یہ قرضہ عوام کو منتقل کر جائیں جسکی اگلی نسلیں بھی اسے اتارنے کے لئے کولہو کے بیل کی طرح جتی رہیں گی۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں متعدد اعلانات کیے، الیکٹرک بسوں، جدید ماس ٹرانزٹ سسٹم اور شہری سفری سہولتوں کی بہتری کے منصوبے پیش کیے گئے، یہ سب خوش آئند دکھائی دیتا ہے، ایک بڑا صوبہ، بڑھتی ہوئی آبادی، آلودگی اور ٹریفک کا دباؤ ،ان سب کا تقاضا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے،پھر خبرآتی ہے کہ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی سی ای او کوثر خان کو ان کے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے،ایک اہم ترین کام کرنے والی خاتون افسر کو اچانک کیوں ہٹایا گیا؟ اسکی کوئی وضاحت ہی نہیں کہ یہ روٹین کا تبادلہ ہے یا وہ درست کام نہیں کر رہی تھیں ؟ اسی منظرنامے میں جب یہ خبر سامنے آتی ہے کہ وزیراعلیٰ کی آمدورفت کے لیے نیا سرکاری طیارہ خریدا گیاہے، اعلیٰ افسروں کی سرکاری گاڑیوں کو اپ گریڈ کر نے کی پالیسی منظور کر لی گئی ہے ، تو عوامی ذہنوں میں ایک سوال ابھرتا ہے، کیا یہ ترجیحات واقعی درست سمت میں جا رہی ہیں؟

حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ صوبائی سربراہ کو دور دراز اضلاع تک فوری رسائی درکار ہوتی ہے، خاص طور پر ہنگامی حالات میں، چارٹرڈ پروازوں پر آنے والے اخراجات اور پرانے فضائی اثاثوں کی مینٹیننس کے مسائل بھی دلیل کے طور پر پیش کیے گئے،اصولی طور پر ایک بڑے صوبے کی انتظامی ضروریات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اصل بحث قانونی یا انتظامی جواز کی نہیں، سیاسی اور اخلاقی ترجیح کی ہے۔ملک اس وقت معاشی دباؤ میں ہے،عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے، دیہی علاقوں میں صحت مراکز فعال نہیں، سرکاری سکولوں کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے، کسانوں کو فصل کی قیمت نہیں مل رہی ، ایسے حالات میں دس ارب سے زائد مالیت کے جہاز کی خریداری صرف ایک مالی فیصلہ نہیں رہتی بلکہ یہ ایک علامتی اقدام بن جاتی ہے اور علامتیں سیاست میں بہت معنی رکھتی ہیں۔اگر وزیراعلیٰ کے لیے ایک اور نیا جہاز خریدا جا سکتا ہے تو بیوروکریسی کیوں پیچھے رہے؟ چنانچہ کابینہ سے ایک ایسی پالیسی بھی منظور کرائی گئی جس کے تحت اعلیٰ افسران کو بڑی اور اعلیٰ معیار کی گاڑیوں کے فلیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، دلیل یہاں بھی وہی دی گئی، مؤثر کارکردگی، پروٹوکول کی ضرورت، اور سرکاری وقار، مگر کیا وقار بڑی گاڑیوں سے آتا ہے یا بہتر حکمرانی سے؟

یہ پورا منظر ایک مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، پہلے عوامی ٹرانسپورٹ کی بہتری کا اعلان، پھر اعلیٰ سطح پر ذاتی یا سرکاری سفری آسائشوں میں اضافہ، گویا پیغام یہ ہو کہ عوام کے لیے بسیں اور حکمرانوں کے لیے جہاز،شہریوں کے لیے بس سٹاپس پر رش اور سرکاری افسران کے لیے گاڑیوں کے فلیٹ، اس تضاد کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔

حکومت اگر واقعی یہ سمجھتی ہے کہ جہاز اور بڑی گاڑیوں کی پالیسی مالی طور پر سودمند ہے، تو اسے مکمل شفافیت کے ساتھ اعداد و شمار سامنے رکھنے چاہئیں، پچھلے پانچ سال میں چارٹرڈ فلائٹس پر کتنا خرچ ہوا؟ موجودہ سرکاری گاڑیوں کی مینٹیننس اور ایندھن پر کتنی لاگت آ رہی تھی؟ نئی پالیسی سے کتنی بچت متوقع ہے اور کتنے عرصے میں؟یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے، دنیا کے کئی ممالک میں معاشی بحران کے دوران حکومتیں علامتی کفایت شعاری کے اقدامات کرتی ہیں، وزراء تنخواہوں میں کمی کا اعلان کرتے ہیں، سرکاری مراعات محدود کی جاتی ہیں، پروٹوکول کم کیا جاتا ہے، اس کا مقصد صرف اخراجات کم کرنا نہیں بلکہ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہوتا ہے، پنجاب میں اس کے برعکس تصویر ابھر رہی ہے، یہاں کفایت شعاری کے بیانات تو سنائی دیتے ہیں، مگر عملی اقدامات اس کے بر عکس نظر آ رہے ہیں۔

ٹرانسپورٹ پالیسی کے تناظر میں بھی سوال یہی ہے کہ کیا وسائل کا بڑا حصہ واقعی عوامی سہولت پر خرچ ہو رہا ہے یا نمائشی منصوبوں پر؟ الیکٹرک بسوں کا اعلان اپنی جگہ مثبت ہو سکتا ہے، اگر ان کے ساتھ بنیادی روٹس کی بحالی، کرایوں کا توازن، دیہی علاقوں تک رسائی اور پرانی بسوں کی اپ گریڈیشن شامل ہو ،ورنہ یہ منصوبہ بھی محض شہری مراکز تک محدود رہ جائے گا اور اسی دوران اگر سرکاری اشرافیہ کے لیے سہولتوں میں اضافہ ہوتا رہے تو عوامی بیانیہ کمزور ہو جاتا ہے،یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ حکمرانوں کو سفر کی سہولت نہیں ہونی چاہیے یا افسران کو گاڑیاں فراہم نہ کی جائیں، مسئلہ سہولت کا نہیں، توازن کا ہے، جب ریاستی وسائل محدود ہوں تو ہر خرچ ایک پیغام دیتا ہے، اگر وہ پیغام یہ ہو کہ اوپر کے طبقات کے لیے سہولتیں بڑھ رہی ہیں اور نیچے کے طبقات کے لیے وعدے، تو پھر اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے۔

پنجاب کی سیاست میں بیوروکریسی کا کردار ہمیشہ مضبوط رہا ہے، اگر اب انہیں بڑے گاڑیوں کے فلیٹ کی باضابطہ منظوری ملتی ہے تو یہ صرف انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن کا اظہار بھی ہے، عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ان گاڑیوں کی لاگت عوامی ٹیکس سے نہیں آئے گی؟ کیا یہ وسائل کسی ہسپتال، سکول یا دیہی سڑک پر خرچ نہیں ہو سکتے تھے؟

حکمرانی کی اصل آزمائش بحران کے وقت ہوتی ہے،خوشحالی کے دور میں بڑے فیصلے آسان ہوتے ہیں، مگر مشکل حالات میں سادگی اور حساسیت زیادہ اہم ہو جاتی ہے، پنجاب میں اس وقت جس قسم کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں، وہ اس حساسیت کے فقدان کی طرف اشارہ کرتے ہیں،قانونی جواز اپنی جگہ، مگر اخلاقی جواز بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے،اگر حکومت چاہتی ہے کہ اس کے اقدامات کو سنجیدگی سے لیا جائے تو اسے تین کام کرنے ہوں گے، مکمل مالی شفافیت، مراعات میں واضح حد بندی اور عوامی منصوبوں کی حقیقی ترجیح، بصورت دیگر جہاز اور گاڑیوں کی بحث محض اپوزیشن کی تنقید نہیں رہے گی بلکہ عوامی بے چینی کا حصہ بن جائے گی۔