لیاری میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے 10 افراد جاں بحق، 9 زخمی

وزیربلدیات نے ایس بی سی اے افسران کو معطل کردیا، صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا اظہار افسوس

کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں جمعہ کی صبح ایک خستہ حال پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی، حادثے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 9 زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں جبکہ وزیر بلدیات سعید غنی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے متعلقہ افسران کو معطل کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کیلئےتین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

سول ہسپتال کراچی کے اعداد و شمار کے مطابق 9 لاشیں اسپتال لائی گئیں جبکہ ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 6 افراد کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل کی جاچکی ہیں جبکہ آٹھ افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ عمارت گرنے کے حادثے میں 7 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کچھ افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ عمارت کو 2 جون 2025 کو آخری نوٹس جاری کیا گیا تھا اور یوٹیلیٹی سروسز ختم کرنے کیلئےبھی خطوط لکھے گئے تھے۔ گزشتہ سال مئی میں عمارت کو خالی کرانے کیلئےتحریری ہدایات دی گئی تھیں۔

وزیر بلدیات نے ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے اور تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جو تین دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق لیاری بغدادی کے علاقے آٹھ چوک میں واقع عمارت چوبیس گھنٹہ کلینک کے قریب گر گئی۔ ترجمان کے مطابق موبائل سگنلز کی کمی کے باعث اطلاع تاخیر سے ملی، جبکہ تنگ گلیوں کی وجہ سے بھاری مشینری لانے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ مقامی افراد اور فلاحی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

شہید بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر اور سول اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں 55 سالہ فاطمہ دختر بابو، 32 سالہ پریم، 35 سالہ وسیم ولد بابو، 55 سالہ حور بائی دختر کشن، 21 سالہ پرانتک ولد آرسی اور دو دیگر افراد شامل ہیں۔

ایس ایس پی سٹی کے مطابق ملبے سے 7 لاشیں اور 8 زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے، جبکہ مزید افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایس ایچ او بغدادی نے بتایا کہ 5 زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جن میں 25 سالہ راشد ولد عزیز، 45 سالہ یوسف ولد سبحان، 35 سالہ سنیتہ زوجہ چینن، 50 سالہ فاطمہ زوجہ بابو اور 35 سالہ چندہ زوجہ جمعہ شامل ہیں۔

ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے مطابق ملبے تلے 20 سے 25 افراد دبے ہونے کا خدشہ ہے، جنہیں نکالنے کیلئے ہیوی مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ عمارت میں 12 سے زائد فلیٹ تھے اور حادثے کے وقت دکانیں کھلی تھیں۔ مقامی افراد کے مطابق ملبے سے اب بھی انسانی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو شہر میں خطرناک قرار دی گئی 570 عمارتیں فوری خالی کرانے کی ہدایت دی تھی۔ ایس بی سی اے کے مطابق کراچی میں 570، حیدرآباد میں 80، میرپور خاص میں 81، سکھر میں 67 اور لاڑکانہ میں 4 مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی اور ریسکیو ٹیموں کو تیزی سے کارروائی کرنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے خستہ حال عمارتوں کی فوری تفصیلات طلب کرتے ہوئے عملی اقدامات کی ہدایت بھی دی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کیلئے دعا اور لواحقین سے تعزیت کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو جلد نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں