کراچی(کلچرل ڈیسک)پاکستانی ٹیلی ویژن کی سینئر اداکارہ عائشہ خان کی آخری رسومات نہایت خاموشی سے ادا کر دی گئیں، کسی میڈیا چینل کو پیشگی اطلاع دی گئی نہ ہی شوبز انڈسٹری سے وابستہ کوئی شخصیت جنازے میں شریک ہو سکی۔ ان کی موت کی خبر بھی ایک ہفتے بعد سامنے آئی، جس نے مداحوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا۔
76 سالہ اداکارہ کے انتقال کے بعد، ان کے پڑوسیوں کی شکایت پر پولیس نے فلیٹ میں کارروائی کی اور لاش کو ایدھی سرد خانے منتقل کیا۔ اس موقع پر پوسٹ مارٹم کی اجازت نہ دی گئی کیونکہ عائشہ خان کے بیٹوں نے اسے قدرتی موت قرار دیا اور کہا کہ اب صرف تدفین کا عمل باقی ہے۔
معروف سوشل میڈیا رپورٹر فرح اقرار نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کہا“الوداع عائشہ خان، الوداع… یہ ان کی قبر کی تصویر ہے جو ان کے والد کی قبر کے قریب ہے۔ ان کی تدفین انتہائی سادگی اور نجی انداز میں ہوئی۔”
فرح کے مطابق میت سخی حسن قبرستان منتقل کی گئی۔نماز جنازہ بھی وہیں کی مسجد میں ادا کی گئی۔اداکارہ کی قبر ان کے والد کے پہلو میں بنی۔شوبز سے کسی کو اطلاع نہ دی گئی، اس لئےکوئی بھی معروف شخصیت جنازے میں شریک نہ ہو سکی۔
فرح اقرار نے انکشاف کیا کہ عائشہ خان کے آخری ایام شدید مایوسی میں گزرے۔ ان کے پاؤں میں فریکچر تھا اور وہ شدید جسمانی و ذہنی تکلیف کا سامنا کر رہی تھیں۔ زندگی کے آخری دنوں میں خود کو مکمل تنہا کر لیا تھا۔
سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد مداحوں کی بڑی تعداد نے گہرے رنج اور غم کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کی شخصی عظمت اور فنی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے تنہائی میں گزرے آخری لمحات پر افسوس کا اظہار کیا۔
عائشہ خان کئی دہائیوں پر محیط کیریئر کے دوران پاکستانی ڈراموں میں نہایت مضبوط اور باوقار کرداروں کیلئے جانی جاتی تھیں۔ ان کی خاموش موت اور غیر نمایاں تدفین پاکستانی شوبز اور معاشرے کے رویوں پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔

