ماحولیات، سموگ اور شجرکاری؟

ہمارے ماہرین موسمیات اور ماحولیات بھی آخر انسان ہیں اور بھول چوک انسانی فطرت ہے،یہ اچھی بات ہے کہ یہ حضرات اپنی بات پر اصرار نہیں کرتے اور غلطی تسلیم کئے بغیر معلومات تبدیل کر دیتے ہیں،زیادہ دن نہیں گذرے جب عالمی ماہرین کی آراء اور تحقیق کی روشنی میں بتایا گیا تھا کہ اس موسم سرما کی مدت تو کم ہو گی،لیکن سردی کی شدت بہت زیادہ ہو گی۔اس خبر کے بعد ہم سفید پوشوں نے غور کرنا شروع کر دیا تھا کہ جو کپڑے موجود ہیں وہ ایسی سردی برداشت کر لیں گے۔یہی فکر ستا رہی تھی،لیکن آج ہمارے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ماہر کی جو رائے خبروں میں دیکھی اس سے انداز ہوا کہ پیشگوئی میں بھی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔آج بتایا گیا کہ موسم سرما میں سردی معمول سے کم درجہ حرارت نسبتاً کچھ زیادہ رہے گا اور برف باری کم ہو گی،جبکہ بارش کے حوالے سے خاموشی تھی۔

یہ سب جدید تحقیق اور آلات کی مدد سے ہے اور ساتھ ہی ساتھ بعض وجوہات کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے ان میں درختوں کی کمی کو بنیادی اسباب میں شامل کیا گیا اور اِس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ شجرکاری کی جائے۔میرے لئے یہ سب تعجب کی بات ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا اور پھر جرنلزم میں آیا یہی سنتا آ رہا ہوں کبھی کبھار یہ بھی خبر مل جاتی ہے کہ شمال اور گلگت،بلتستان میں درخت چوری کرنے والے پکڑ لئے گئے،میں نے جب سے سکول جانا شروع کیا اور دوستوں یا فیملی کے ساتھ کبھی کبھار پہاڑی علاقے یا قریبی چھانگا مانگا والے جنگل جانا ہوا تو درختوں کی بہار نظر آئی۔مری اور اسلام آباد کے درمیان جنگل بہت گھنا تھا ایک تعلیمی دورے کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ جنگل کے ان درختوں پر باقاعدہ نمبر لگائے گئے ہیں۔اس طرح نہ صرف تعداد کا پتہ چلتا ہے بلکہ انہی نمبروں کے مطابق ان درختوں کی عمر اور اس کے بعد کاٹنے کا دن اور تاریخ متعین ہے، ساتھ ہی یہ بھی طے ہے کہ جو درخت کٹے گا اس کی جگہ شجرکاری کی جائے تاکہ کمی بھی پوری ہوتی رہے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے قبل چلا آ رہا ہے،لیکن اب حالات بالکل ہی مختلف ہیں کہ درخت مسلسل کم ہوتے اور جنگل چھدرے ہوتے چلے گئے۔ کہیں زمین صاف کی گئی، ہٹ بن گئے یا پھر سڑک وغیرہ کے لئے ترقی کی راہ میں قربان ہو گئے یہ سب دور دراز زیادہ ہوا، نتیجہ درجہ حرارت میں اضافہ اور ”سنو فالنگ“ کم ہوتی چلی گئی۔

ہم جیسے پیدائشی لاہوریوں کو تو ہر دم یہ غم بھی کھائے جاتا ہے کہ جو باغوں کا شہر تھا اب تارکول کی سڑکوں اور سیمنٹ پتھر کی عمارتوں اور پلوں کا شہر بن کر رہ گیا ہے،بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ شہر کے نواح میں جو جنگل نما زرعی علاقے تھے وہ رہائشی کالونیوں کی زد میں آ گئے اور زرعی اراضی کی جگہ پختہ عمارتوں نے لی، سبزیوں کی پیداوار کم ہوئی اور اثر مارکیٹ پر آیا۔

اب ذرا س کوتاہی کے منظر ہی کے دوران اپنی کوششوں کا بھی ذکر کر لیں،ہر سال دو بار بہار اور برسات کے دِنوں میں شجرکاری کی جاتی ہے۔سرکاری طور پر ہزاروں پودے لگانے کا اعلان اور ہدایت کی جاتی ہے،اس کے ساتھ ہی ہمارے مختلف صوبائی اور مقامی محکمے بھی اعلان کرتے کہ اس تعداد میں پودے لگائے جائیں گے،اور شجرکاری کا سیزن مکمل ہوتے ہی یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ اتنے ہزار پودے لگائے گئے،لیکن آج تک کبھی ایسی کوئی پریس ریلیز خبر نظر سے نہیں گزری،جس میں بتایا گیا ہو کہ شجرکاری،کتنی پھلی پھولی اور کتنے پودے درخت بنے، اس کے لئے نگہداشت اور دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔یوں میں اگر یہ عرض کروں کہ ہر دو سیزنوں کے حوالے سے گذشتہ دو دہائیوں ہی کے اعداد و شمار طلب کئے جائیں تو حیرت سے دم گھٹ جائے کہ شجرکاری کی تعداد تو کروڑوں اور اربوں میں ہو گی، لیکن کوئی بھی یہ نہیں بتائے گا کہ جو شجرکاری کی گئی اس کے نتیجے میں کتنے پودے درخت بنے۔

صوبائی حکومت سموگ کی وجہ سے جہاں انسدادی عمل جاری رکھے ہوئے ہے، وہاں بہت سے ایسے منصوبوں کی اطلاعات بھی ملتی ہیں کہ اینٹی سموگ مہم ہی نہیں ہو گی بلکہ درخت بھی لگائے جائیں گے۔ایک منصوبہ چھانگا مانگا اور دوسرا جلو پارک کی توسیع و تزئین سے متعلق بھی بتایا گیا اور اب یہ بھی خبر ملی ہے کہ لاہور کے گردا گرد مخصوص نوعیت کا جنگل اگایا جائے گا بلکہ چاروں طرف درختوں کی دیوار بنا دی جائے گی کہ آکسیجن وافر ملے اور بیرونی خراب ماحولیاتی اثرات بھی کم سے کم ہوں۔یہ اچھے کام ہیں، سوال پھر وہی کو یہ کب ہو گا اور کیا یہ سب اسی سپرٹ کے تحت عمل پذیر ہو گا، جس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ابھی تک تو شجرکاری ہی کے نتائج نہیں بتائے گئے اگر گذشتہ دو دہائیوں ہی کا حساب مانگ لیا جائے تو جو اعداد و شمار ملیں گے، ان سے اندازہ ہو گا کہ اب تک ملک جنگل بن گیا ہوتا (درختوں سے، ویسے انسانوں کا جنگل تو ہے)۔

بہرحال یہ سب تکلیف دہ ہے اور اب سموگ نے جو کیفیت اختیار کی اس نے تو ہم زیادہ عمر والے لوگوں کو کمروں میں بند کر دیا ہے۔حکومت کی طرف سے اینٹی سموگ گاڑیوں اور چھڑکاؤ سے بھی مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے۔ بچے اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد متاثر ہو رہے ہیں،اس سلسلے میں اب نئے فیصلے کئے گئے کہ 15نومبر سے بغیر سٹیکروالی گاڑیوں کو بند کر دیا جائے گا یہ کاروں کی حد تک تو نیا حکم سہی،لیکن دھواں دینے والی ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی تو پہلے بھی جاری تھی، اگر ہیلمٹ کے حوالے سے سخت گیر مہم چلائی جا سکتی ہے تو پھر دھواں دینے والی گاڑیوں کے حوالے سے کیوں نہیں چلی۔ سڑکوں پر، ٹرک، موٹر سائیکل،ٹریکٹر، رکشا اور چنگ دی چل رہی ہیں جو بہت دھواں دار ہیں۔ اسی طرح شجر کاری مہم کہیں نظر نہیں آئی۔حتیٰ کہ لاہور کی خوبصورت نہر کے کنارے تو دوبارہ سے سنوار لئے جائیں اور سرکلر گارڈن بحال کر دیا جائے۔ یہاں تو ناصر باغ کو بہتر بنانے کی بجائے اس جگہ زیر تعمیر پارکنگ تعمیر کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے۔ پارکوں تک میں شجرکاری کبھی درخت نہیں بنی، مختلف علاقوں میں بھینس راج ہے جو گرین بیلٹوں کے پودے تو کیا نجی گھروں کے پودے کھا جاتی ہیں۔اس کے علاوہ اصل ضرورت پبلک ٹرانسپورٹ کی ہے جو دس دس اور بیس بیس نہیں سینکڑوں کی صورت میں لانچ کی جائے،اور ٹریفک جام کا مسئلہ حل کیا جائے کہ سموگ میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ نچلی سطح تک احتساب کا عمل لایا جائے، اسی طرح ممکن ہو گا کہ سموگ بھی کم ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں