مارشل لا لگانے والے جنوبی کوریا کے سابق صدر کو گرفتار کرنے کی کوشش

مارشل لا لگانے والے جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کی گرفتاری روک دی گئی۔غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے تحقیقاتی اداروں نے صدارتی گارڈز کی مزاحمت پر گرفتاری کا عمل روک دیا گیا۔

جنوبی کوریا کے سابق صدر یون کو مارشل لا لگانے پر تحقیقات کا سامنا ہے جب تحقیقاتی اداروں نے سابق صدر کے گھر کا کئی گھنٹے تک محاصرہ کیے رکھا۔

صدارتی گارڈز نے تحقیقاتی اداروں کو سابق صدر کو گرفتار کرنے سے روکے رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر یون کی گرفتاری کے وارنٹ پر آج عملدرآمد روک دیا گیا۔

جنوبی کوریا میں پہلی بار کسی سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں، مارشل لا بغاوت تھا یا نہیں، ان کے خلاف اس کی تحقیقات جاری ہے۔ یون سک یول پولیس اور کرپشن انویسٹی گیشن یونٹ کے سوالوں کے جوابات نہیں دے رہے تھے۔

یون سک یول نے 3 دسمبر کو مارشل لا نافذ کیا تھا، لیکن اپوزیشن اور عوام کے ملک گیر احتجاج پر صرف 6 گھنٹے بعد حکم نامہ واپس لے لیا تھا۔ یون سک یول 14 دسمبر کو پارلیمنٹ میں مواخذے کے بعد معزول کر دیے گئے تھے۔

جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ کے تمام 300 اراکین نے یون سک یول کے خلاف مواخذے پر ووٹنگ میں حصہ لیا تھا اور 204 ارکان نے ان کے مواخذے کے لیے ووٹ دیا تھا۔

صدر یون کے وکیل نے گرفتاری کے خلاف عدالت میں کہا تھا کہ وارنٹ کی درخواست غلط ہے، اور انسداد بدعنوانی ایجنسی کے پاس بغاوت کے الزامات کی تحقیقات کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں