“مارچ ٹو غزہ” — یونان سے 205 انسانی حقوق کارکنان ناکہ بندی توڑنے فلسطین روانہ ہوں گے

یونان ( خالد مغل )فلسطین میں جاری انسانی بحران اور غزہ کی مسلسل ناکہ بندی کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والی مزاحمتی تحریک “مارچ ٹو غزہ” کے تحت 205 یونانی انسانی حقوق کے کارکنان پر مشتمل قافلہ کل فلسطین کی جانب روانہ ہوگا۔ اس قافلے کا مقصد غزہ کی سرحد پر اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا اور بین الاقوامی سطح پر محصور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

یہ کارواں بین الاقوامی انسانی حقوق کوآرڈینیشن کے تحت منظم کیا جا رہا ہے، جس نے اعلان کیا ہے کہ 12 سے 20 جون کے دوران 32 ممالک اور پانچ براعظموں سے تعلق رکھنے والے 1500 سے زائد کارکنان اور تنظیمیں مصری شہر العریش سے رفح بارڈر تک مارچ کریں گی۔ ان کا بنیادی مطالبہ ہے کہ رفح کراسنگ کو فی الفور کھولا جائے تاکہ لاکھوں بھوکے اور محصور فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔

یونانی وفد، جس میں 205 کارکنان شامل ہیں، “مارچ ٹو غزہ” کے لیے دنیا کا تیسرا سب سے بڑا وفد قرار پایا ہے.پہلا بڑا قافلہ فرانس سے ہے جس میں 300 کارکنان شامل ہیں۔دوسرا اسپین سے 260 افراد پر مشتمل ہے۔اس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور جرمنی و ترکی کے وفود ہیں جن میں بالترتیب 200 اور 170 کارکنان شامل ہیں۔

منتظمین کے مطابق یونانی وفد کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے اور مزید اندراج بند کر دیا گیا ہے۔ یونانی عوام کی جانب سے بھی ملک کے ہر بڑے شہر میں روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

یہ قافلہ نہ صرف انسانی خدمت کا پیغام لے کر رواں دواں ہے بلکہ یہ دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور عالمی قوانین کو یاد دلانے کی کوشش ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی ایک انسانی المیہ ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں