وینکوور(نامہ نگار)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے وینکوور پرائیڈ پریڈ 2025 میں بھرپور شرکت کی جس دوران عوام نے ان کا جوش و خروش سے استقبال کیا۔ انہوں نے تنوع اور شمولیت کو کینیڈا کی پہچان قرار دیا، جبکہ تقریب کے منتظمین نے اسپانسرز کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے وینکوور میں منعقدہ سالانہ پرائیڈ پریڈ میں مارچ کیا۔ پریڈ میں شمولیت سے قبل انہوں نے برٹش کولمبیا کے وزیرِ اعلیٰ ڈیوڈ ایبی اور وینکوور پورٹ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
وزیرِ اعظم کارنی تقریباً ایک کلومیٹر طویل پریڈ میں شریک رہے اور شہریوں سے گھل مل کر ملتے رہے۔ انہوں نے کہا: “یہ پرائیڈ ہے، یہ ایک جشن ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو ہمارے ملک کو عظیم بناتی ہے۔ یہ پریڈ ہمارے قومی جوہر اور تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔” شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جبکہ سیکیورٹی اہلکار ان کے ساتھ ساتھ تعینات رہے۔
تقریب کے منتظمین کے مطابق، اس سال پرائیڈ ایونٹ میں ایک لاکھ سے زائد شرکاء کی شرکت متوقع تھی، جس میں سالانہ پریڈ کے علاوہ متعدد تقریبات بھی شامل تھیں۔ وینکوور پولیس نے سیکیورٹی کے لیے اضافی نفری تعینات کی۔ پولیس کانسٹیبل تانیا وزنٹن نے 1130 نیوزریڈیو کو بتایا: “ہم نے ٹریفک کنٹرول اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پریڈ کے راستے پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔”
اس موقع پر وینکوور پرائیڈ سوسائٹی کو مالی مشکلات کا سامنا بھی رہا۔ بورڈ کی سیکرٹری مورگن اوگر نے بتایا کہ گزشتہ برس اسپانسرشپ کی مد میں 9 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے تھے، جبکہ رواں سال یہ رقم کم ہوکر 5 لاکھ ڈالر تک محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا: “اگر ہمیں آدھی فنڈنگ ملے گی، تو ہمارا بجٹ بھی آدھا ہو جائے گا۔ جب کہ اخراجات وہی رہیں گے، اس لیے ایونٹ کے انعقاد میں دشواری ہو گی۔”
اوگر نے اسپانسرز کی کمی کی ممکنہ وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی اینٹی-DEI (ڈائیورسٹی، ایکویٹی، انکلوژن) سوچ کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومتی ٹھیکیداروں پر اس حوالے سے دباؤ موجود ہے، جس کا اثر کینیڈا میں بھی محسوس ہو رہا ہے۔یاد رہے، گزشتہ برس سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی اس پریڈ میں شرکت کی تھی اور شہریوں کے ساتھ تصاویر اور مصافحے کیے تھے۔

