اوٹاوا(نامہ نگار)کینیڈا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کنزرویٹو پارٹی نے وزیر اعظم مارک کارنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام مالیاتی اثاثے فروخت کر کے انہیں نقد میں تبدیل کریں، تاکہ کسی بھی ممکنہ مفاداتی تصادم کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
وزیر اعظم مارک کارنی، جنہوں نے مارچ 2025 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا، اپنی ذاتی سرمایہ کاری کو “اندھے اعتماد” (Blind Trust) میں منتقل کر چکے ہیں، تاکہ وہ اپنے عوامی عہدے پر فائز رہتے ہوئے کسی بھی ممکنہ مفاداتی تصادم سے بچ سکیں۔
تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی مالیاتی تفصیلات کے مطابق، وزیر اعظم کے اندھے اعتماد میں شامل اثاثے بعض بڑے تجارتی اداروں جیسے بروک فیلڈ اثاثہ جات، بروک فیلڈ کارپوریشن، اور اسٹرائپ کمپنی سے منسلک ہیں، جن کے مختلف حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
حزبِ اختلاف کے رہنما پیئر پوئیلیور نے ان تحفظات کا اظہار کرتے ہوئےایک پریس کانفرنس میں کہا کہ”وزیر اعظم کو بخوبی علم تھا کہ وہ کن اثاثوں کو اندھے اعتماد میں ڈال رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب بھی حکومتی پالیسیوں کے ذریعے ان کمپنیوں کے وسیع کاروباری مفادات سے ذاتی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ”وزیر اعظم اپنے تمام سرمایہ جاتی اثاثے فوری طور پر فروخت کریں، انہیں نقد میں تبدیل کریں، اور یہ رقم ایک غیر جانبدار نگران کے حوالے کریں، تاکہ انہیں سرمایہ کاری کی نوعیت یا مقام سے مکمل بے خبری ہو — یہی اندھے اعتماد کی اصل روح ہے۔”
معاشی ماہرین کے مطابق چونکہ مذکورہ کمپنیاں توانائی، انفراسٹرکچر، اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں سرگرم ہیں، اس لیے ان سے وابستہ مالی مفادات اور پالیسی سازی کے درمیان پائے جانے والے ممکنہ روابط پر عوامی سطح پر شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں۔
ابھی تک وزیر اعظم مارک کارنی یا ان کے دفتر کی جانب سے حزبِ اختلاف کے اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردِعمل جاری نہیں کیا گیا۔
کینیڈا میں حکومتی شفافیت اور مفادات کے تصادم سے بچاؤ کے اصولوں کے تحت اندھے اعتماد کی روایت ایک اہم قانونی و اخلاقی معیار سمجھی جاتی ہے، تاہم حزبِ اختلاف کا موقف ہے کہ صرف اندھے اعتماد میں اثاثے رکھ دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی مکمل فروخت اور نگرانی کا غیر جانبدار نظام وقت کی ضرورت ہے۔

