مارک کارنی کے مجوزہ بل C-5 پر فرسٹ نیشنز قیادت کی شدید مخالفت

اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)فرسٹ نیشنز رہنماؤں نے وزیراعظم مارک کارنی کے مجوزہ بل C-5 کو فرسٹ نیشنز کے حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی مشاورت کے بغیر کی جا رہی ہے اور اس سے مقامی اقوام کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہے۔

مارک کارنی کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ بل C-5، جس کا مقصد حکومتِ کینیڈا اور فرسٹ نیشنز کے درمیان تعلقات میں بعض “اصلاحات” لانا ہے، کو فرسٹ نیشنز قیادت کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ فرسٹ نیشنز اسمبلی (AFN) اور دیگر مقامی تنظیموں نے اسے یکطرفہ اور غیرمشاورتی اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

فرسٹ نیشنز کے چیفز کا کہنا ہے کہ بل C-5 میں ان کے تاریخی معاہدوں اور حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ چیف گیساپینی (Gisa’peni) نے کہا کہ”ہماری خودمختاری پر یہ ایک کھلا حملہ ہے۔ حکومت نے نہ تو مشاورت کی اور نہ ہی ہماری رضا مندی لی۔”

بل C-5 کے مطابق، بعض موجودہ خودمختار انتظامی اختیارات کو وفاقی حکومت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس پر مقامی قیادت کو خدشہ ہے کہ یہ ایک قدم پیچھے کی جانب ہو گا۔

فرسٹ نیشنز لیڈرز نے مطالبہ کیا ہے کہ بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور کسی بھی قانون سازی سے پہلے مکمل اور بامعنی مشاورت کی جائے۔

ادھر مارک کارنی کے ترجمان نے وضاحت دی ہے کہ بل C-5 کا مقصد مقامی اقوام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ ان کی خودمختاری کو سلب کرنا۔ تاہم، فرسٹ نیشنز رہنماؤں نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

بل C-5 کی قانونی حیثیت اور مستقبل پر ابھی کئی سوالات باقی ہیں، تاہم فرسٹ نیشنز کی طرف سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ان کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی قدم قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں