اسلام آباد (حوا فضل/بشکریہ ڈان)پاک فوج کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف نجی ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق الزامات پر کورٹ مارشل کا عمل جاری ہے، مزید تین اعلیٰ فوجی افسران کو بھی فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب اعلیٰ فوجی افسر کو ادارہ جاتی احتساب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔ ماضی میں بھی کئی اہم افسران مختلف الزامات پر فوجی عدالتوں اور تادیبی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
“ذیل میں ان نمایاں کیسز کا خلاصہ پیش ہے جنہوں نے ملک میں بڑی عوامی توجہ حاصل کی”
“این ایل سی اسکینڈل ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد منیر خان، لیفٹیننٹ جنرل (ر) افضل مظفر”
2009ء کی پی اے سی رپورٹ میں این ایل سی کو 1.8 ارب روپے کے نقصان کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ انکوائری میں پتا چلا کہ 2004 سے 2008 کے دوران بینکوں سے مہنگے قرض اور پنشن فنڈز کی غلط سرمایہ کاری کے باعث مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔
“فوجی انکوائری اور بعدازاں ٹرائل میں دو ریٹائرڈ جرنیلوں کو قصوروار قرار دیا گیا”.
لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد منیر خان ، ملازمت سے برطرف
لیفٹیننٹ جنرل (ر) افضل مظفر ،شدید برہمی (ریکارڈڈ)
این ایل سی کے سابق ڈی جی میجر جنرل خالد ظہیر اختر کو بھی برطرف کردیا گیا۔
“جاسوسی کیس ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال”
لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو مئی 2019ء میں غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے 14 سال قید کی سزا سنائی۔
بعدازاں سزا کم ہو کر7 سال پھرسابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے دور میں صرف ڈھائی سال رہ گئی۔موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سزا مکمل طور پر معاف کردی اور انہیں قبل از وقت رہا کیا گیا۔
“فوجی بغاوت کی سازش ، میجر جنرل ظہیرالاسلام عباسی و دیگر”
1995ء میں میجر جنرل ظہیرالاسلام عباسی اور متعدد فوجی افسران کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا کہ وہ:
کور کمانڈرز اجلاس پر دھاوا بولنا
وزیراعظم بے نظیر بھٹو، جنرل وحید کاکڑ اور اعلیٰ قیادت کو قتل کرنا
ملک میں خلافت نافذ کرنا چاہتے تھے
“فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں”
میجر جنرل عباسی 7 سال قید
بریگیڈیئر مستنصر باللہ 14 سال قید
کرنل آزاد منہاس و کرنل عنایت اللہ 4، 4 سال قید
“بغاوت اور کالعدم تنظیم سے روابط ، بریگیڈیئر (ر) علی خان”
2011ء میں بریگیڈیئر علی خان کو کالعدم حزب التحریر سے روابط اور حکومت مخالف سازش کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ایف جی سی ایم فیصلے کے مطابق بریگیڈیئر علی خان ، 5 سال قید بامشقت،میجر عنایت عزیز1 سال،میجر افتخار 6 ماہ،میجر سہیل اکبر 3 سال،میجر جاوید بصیر 2 سال قید بامشقت.ان پر الزام تھا کہ وہ فوج میں بغاوت کو ہوا دے رہے تھے،جی ایچ کیو پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے،حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں تھے.
“انتظامی برطرفیاں، کورٹ مارشل کے بغیر سزائیں”
کئی کیسز میں افسران کو کورٹ مارشل کے بجائے انتظامی طور پر برطرف کیا گیا.جنرل (ر) ضیاالدین بٹ 1999 میں آرمی چیف مقرر ہونے کے بعد فوج نے انہیں سیکشن 16 کے تحت سروس سے برطرف کیا۔
2016ء میں جنرل راحیل شریف کے دور میں بدعنوانی پرلیفٹیننٹ جنرل عبیداللہ خٹک،میجر جنرل اعجاز شاہد
سمیت 6 افسران برطرف کیے گئے۔2015ء میں این ایل سی گھوٹالے کے مرکزی افسران کو بھی محکمانہ کارروائی کے بعد فارغ کیا گیا۔
“اصغر خان کیس ، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کارروائی نہ ہوئی”
معروف اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی پر سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے بانٹنے کے الزامات ثابت ہوئے۔
سپریم کورٹ نے 2012ء میں وزارت دفاع کو کارروائی کا حکم دیا مگرنہ جنرل اسلم بیگ کا کورٹ مارشل ہوا،نہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف کارروائی مکمل کی گئی.بعدازاں 2018–2021 میں اسد درانی کے خلاف ایک نئی انکوائری ہوئی مگر کوئی واضح فوجی ٹرائل سامنے نہیں آیا۔
یہ تمام مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اعلیٰ فوجی افسران کے احتساب کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا ہے، تاہم کئی معاملات میں کارروائیاں مکمل نہ ہو سکیں یا صرف انتظامی سطح تک محدود رہیں۔

