مبنی برانصاف مذاکرات مسائل کا حل ہیں!

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان اور گڈز ٹرانسپورٹ والوں کے کامیاب مذاکرات کے بعد دس روزہ ہڑتال ختم ہو گئی اور بندرگاہ سے مال کی ترسیل جاری ہو گئی ہے۔ حکومتوں اور ٹرانسپورٹ والوں کے درمیان معاہدہ پر اطمینان ہوا،تاہم افسوس یہ ہے کہ اس میں تاخیر ہوئی اگر یہی صورت تھی تو بہت پہلے ایسا ہو جانا چاہیے تھا لیکن یہ صاحبان اقتدار کی عادت ہے کہ عام فہم انداز اور شکائت شروع ہونے کے ساتھ ہی مذاکرات سے معاملہ نمٹانے کی بجائے۔ انتظامی زعم کے باعث کوشش کی جاتی ہے کہ معاملہ ٹل جائے۔ ماضی میں بہت سی ہڑتالوں کا ایسا ہی انجام ہوا کہ مار کھائی۔ گرفتاریاں دیں اور پھر کچھ لئے دیئے بغیر بات ختم ہو گئی لیکن اس بار صورت حال مختلف ہو گئی کہ گڈز ٹرانسپورٹروں کے درمیان کامل یکجہتی اور اتحاد نظر آیا اور ان حضرات نے ایک پتھر پھینکے بغیر دس روز تک انتہائی پر امن ہڑتال کرکے ایک مثال بنا دی، گڈز والوں کے ساتھ اب جو معاہدہ ہوا، اس میں ان کے تمام مطالبات پورے کر دیئے گئے۔سندھ، پنجاب اور وفاق کی حکومتوں کے نمائندہ حضرات نے اب مطالبات کو جائز قرار دیا، پنجاب حکومت نے زیادہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور مانگے سے بھی کچھ زیادہ دے دیا، نہ صرف گرفتار ڈرائیور اور کارکن رہا ہوں گے بلکہ بھاری جرمانے بھی معاف کر دیئے گئے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے یہ بھی یقین دلایا کہ اب 30-20ہزار والے جرمانے نہیں، دو تین ہزار ہوں گے، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی مطالبات کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو بندرگاہ کے علاقے میں بڑا شیڈ دیا جائے گا وہاں ایک ہزار ٹرک کھڑے ہو سکیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مطالبات سے بڑھ کر اور رعائت دی۔ ان کی طرف سے کہا گیا کہ پنجاب میں باقاعدہ ٹرک سٹینڈ بنیں گے جو سروس ایریا کی طرح جدید ماڈل پر ہوں گے یہاں واش رومز کے علاوہ ریسٹ روم اور ریسٹورنٹس کی سہولت بھی ہوگی۔ گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک شہزاد نے معاہدوں پر دستخط کئے اور ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ جو وعدے کئے گئے وہ پورے ہوں گے۔

زندگی کے مختلف مراحل کے حوالے سے یہی کہا جاتا ہے کہ جنگ کے بعد امن کے لئے بھی میزپر آنا پڑتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی آٹھ جنگ بندیوں کا ذکر کرتے نہیں تھکتے جو ایک حد تک درست بھی ہے لیکن صرف اور صرف جنگ بندی ہی کافی نہیں ہوتی اس کے مابعد حالات اور تنازعہ کی وجہ کو بھی سدھارنا ہوتا ہے دکھ کا مقام تو یہی ہے کہ محترم ڈونلڈ ٹرمپ صاحب فلسطینیوں کے مسائل پر غور نہیں کرتے اور حماس کے کھاتے میں سب گناہ ڈال کر اسرائیل کو بری الذمہ قرار دیئے جا رہے ہیں۔ اسلام ایک امن کا دین ہے، ہمارے نبیؐ نے تو کسی چیونٹی کو بھی مسلنے سے منع کیا ہے اور مسلمانوں کو واضح طور پر فتنہ و فساد سے رکنے کا حکم دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جس قدر انسانیت کا درس ہے وہ کہیں بھی نہیں ملتا حضورؐ نے تو غزوات اور سرایا کے دوران بھی انسانیت کا تقدس برقرار رکھا، اس لئے اب اگر آسٹریلیا کے ایک ساحل پر دو شدت پسند باپ بیٹے نے وحشیانہ قدم اٹھایا ہے تو کسی مسلمان نے اس کی طرف داری نہیں کی۔ زندہ بچ جانے والے بیٹے پر عبوری طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی اور مزید کارروائی اس کی صحت یابی پر ہو گی۔ دنیا بھر میں اس سانحہ پر دکھ اور مذمت کا اظہا رکیا گیا، ان میں آسٹریلین مسلم معاشرہ بھی شامل ہے جبکہ ایک حملہ آور کو قابو کرکے زخمی ہونے اور درجنوں جانیں بچانے والا بھی مسلمان ہے جس کے بقول وہ شدت پسندی کا مخالف ہے، یہ سب برحق اور یقینا مذمت ہی کے قابل سانحہ ہے تاہم جس شدت سے اس مجمع پر حملے کے خلاف آواز بلندہوئی اور تمام امریکی اور یورپی حکومتوں اور سربراہوں نے اس سانحہ پر آواز بلند کی وہ بھی قابل غور ہے انسانیت کے ناتے یہ درست اقدام ہے، تاہم ایک خلش ضرور ذہن کو ستاتی ہے کہ غزہ کے مظلومین کی نسل کشی پر دنیا بھر کے عوام نے احتجاج کیا لیکن حکومتی قائدین اور حکومت نے چپ سادھے رکھی،بہت ہی شدید صورت حال کے بعد چند سربراہوں نے مظلوموں کی حمایت کی لیکن ٹرمپ سمیت کسی نے اسرائیل کو روکا نہیں حالانکہ صہیونی حکومت مسلسل عالمی قواعد و قوانین اور چارٹر کی دھجیاں اڑاتی چلی جا رہی ہے، آسٹریلین افسوسناک سانحہ کے بعد جہاں مذمت میں شدت ہے وہاں اسلاموفوبیا بھی بھڑک اٹھا ہے اور کم از کم یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمان خوفزدہ ہوئے ہیں،ان حالات میں انصاف ہی مستقبل کے پرامن حالات کا ضامن ہو سکتا ہے کہ جرم جو بھی کرے اسے ہی اس کی سزا دی جائے یہ نہیں کہ مسلمان مرتے رہیں اور صہیونی اپنے ارادوں کی تکمیل کرتے رہیں، اس لئے دنیا بھر میں انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے۔

قارئین! معذرت خواہ ہوں کہ دل کو لگی ہوئی ہے اس لئے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کر دیا ہے۔ بات شروع کی تھی مذاکرات کی اہمیت اور ہڑتال کے حوالے سے، مقصد یہ عرض کرنا تھا کہ اس ہڑتال اور مذاکرات کی کامیابی ہی زندہ مثال ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی جو بھی تنازعات ہیں وہ بات چیت سے پرامن طور پر حل ہو سکتے ہیں، غزہ کا مسئلہ ہو، کشمیریوں کے مصائب ہوں یا سوڈان وغیرہ میں فسادات اور یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ ہو، یہ سب بھی میز پر حل ہوسکتے ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کی وجوہ پر غور کرکے ان کو دور کرنا ہوگا کہ دنیا بھر کے انسان ہر صورت امن سے زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور یہ کام حکومتوں اور طاقت ور ممالک کا ہے کہ خود کو امن پرست ثابت کریں۔

اب اگر اسی حوالے سے اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالیں تو ثابت ہو گا کہ بات چیت اچھا عمل ہے جس سے مسائل حل ہوتے ہیں، گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل تو حل ہو گئے لیکن میرے پیارے پاکستان کا اندرونی استحکام نظر نہیں آتا اور اب تو مذاکرات کے دروازے بھی بند نظر آ رہے ہیں۔ فریقین اپنے اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں، اڈیالہ جیل مسئلہ بن چکی اور عمران خان سے ان کی فیملی اور وکلاء کی ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔ ہر دو فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں، کسی طرف سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا، تحریک انصاف کی بیرونی قیادت تضادات کا شکار ہے لیکن شدت پسند حاوی ہیں، خود عمران خان بھی انا ہی کا شکار ہیں ان حالات میں تیسرے فریق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے (وہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں) میرا بہت پہلے سے موقف تھا کہ مولانا فضل الرحمن یہ فرض نبھا سکتے ہیں کہ ان کی اپنی ذاتی حیثیت اس درجہ پر ہے کہ دونوں اطراف والے ان کی سنتے ہیں، دکھ کا مقام ہے کہ وہ بھی اپنے تحفظات لئے بیٹھے ہیں اور اپنے بزرگ نوابزادہ نصراللہ کا راستہ اختیار نہیں کرتے جو متحارب فریقوں کوا یک پلیٹ فارم یا اتحاد میں جمع کرلیتے تھے۔ مولانا 1988ء کا دور یاد کرلیں جب وہ اور باباء جمہوریت قدم قدم ساتھ تھے۔ راستہ مذاکرات ہی سے نکلے گا اور مولانا فضل الرحمن کو محمود اچکزئی کو ساتھ لے کر یہ عمل کر گزرنا چاہیے کہ ملک میں استحکام کی ضرورت ہے۔