مجوزہ غزہ امن منصوبے پر مذاکرات پیر سے مصر میں شروع ہوں گے

قاہرہ / دوحہ / یروشلم (الجزیرہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے نفاذ کیلئے تکنیکی مذاکرات پیر سے قاہرہ، مصر میں شروع ہوں گے۔ حماس کی مذاکراتی ٹیم 5 اکتوبر کو دوحہ سے قاہرہ پہنچے گی جبکہ ایک قطری وفد بھی معاہدے کی حتمی تیاریاں طے کرنے کیلئے قاہرہ روانہ ہوگا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں اس بات کو اولین ترجیح دی گئی ہے کہ تمام اسرائیلی قیدیوں کو — چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ — بازیاب کرانے کے انتظامات کیے جائیں، اور اس کے بدلے قریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔ اسرائیل نے ایک وفد قاہرہ بھیجنے کی تصدیق کی ہے تا کہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار اور ٹائم لائن پر بات چیت کی جا سکے۔

امریکی 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے میں قیدیوں کی بازیابی اور اس کے عوض فلسطینی قیدیوں کی رہائی مرکزی شق شمار کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی مذاکراتی ٹیم قیدیوں کی رہائی کے طریقۂ کار اور ٹائم لائن پر حتمی فیصلے کے لیے قاہرہ میں شرکت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی منصوبے میں “حماس کو غیر مسلحہ کرنا” بھی شامل ہے اور یہ مقصد یا تو منصوبے کے تحت حاصل کیا جائے گا یا اسرائیلی فوجی کارروائی کے ذریعے، مگر ہر صورت میں اسے حاصل کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کے بعد کہا کہ حماس نے ان کے امن منصوبے پر ’زیادہ تر مثبت‘ ردعمل ظاہر کیا ہے اور گروپ امن کی طرف مائل ہے، جس کے پیشِ نظر انہوں نے تل ابیب سے غزہ پر بمباری فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

اعلامیہ جات کے مطابق حماس کی ٹیم اور قطری وفد مذاکراتی عمل کو تیز رفتار انداز میں آگے بڑھانے کے ارادے سے قاہرہ جمع ہوں گے، جبکہ فریقین قیدیوں کی فہرستوں، رہائی کے مراحل اور نگرانی کے طریقہ کار پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

یہ مذاکرات غزہ میں جاری تشدد کے خاتمے اور انسانی بحران کے حل کی جانب تکنیکی مگر اہم قدم تصور کیے جا رہے ہیں۔ فریقین قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق تک پہنچنے کی کوشش کرینگےالبتہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار حتمی ٹائم لائن نگرانی کے میکانزم اور فریقین کی جانب سے رضامندی پر ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں