بہت پرانی بات نہیں،پیارے پاکستان اور پنجاب میں محرم الحرام کے موقع پرسنی شیعہ کا کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تھا،کربلا میں امام حسینؓ کی عظیم قربانی اور شہادت کی یاد میں اگر شیعہ ماتم و گریہ زاری میں مصروف ہوتے تو سنی بھی یاد حسینؓ کے ساتھ ساتھ عزاداروں کی خدمت میں مصروف ہوتے ان کیلئے ٹھنڈے شربت،دودھ کی سبیلوں اور کھانے کا انتظام کرتے،مجھے یاد ہے ہمارے گھروں میں مٹی کی کجیاں اور ٹھوٹھیاں شربت، کھیر یا چاولوں سے بھر کر تقسیم کی جاتیں،تھوڑے عرصے کیلئےفرقہ واریت نے ہمارے معاشرے کی اچھائیوں،پیار محبت،الفت بھائی چارے کو نظر لگا دی جس کی وجہ سے محرم الحرام میں امن و امان کا قیام حکومتوں کیلئے ایک چیلنج بن جاتا تھا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ فرقہ واریت کا زہر اپنا اثر کھو چکا ہے۔ پنجاب حکومت میں ایک نہایت ہی سلجھے ہوئے،زیرک،بردباراور تجربہ کارافسر احمد جاوید قاضی نے محرم سے کچھ عرصہ پہلے ہی ہوم سیکرٹری کا چارج سنبھالا ہے،ان سے پہلے نورالامین مینگل نے بھی اپنے فرائض بڑی محنت سے ادا کئے اور اب وہ سیکرٹری ہاؤسنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔میں ان دنوں کچھ عرصہ کیلئےکینیڈا میں ہوں مگر پنجاب میں محرم کی آمد سے پہلے ہی احمد جاوید قاضی، مذہبی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے، امن و امان کو برقرار رکھنے اور دوسرے معاملات کیلئےجو محنت کر رہے ہیں وہ نظر آ رہی ہے،وہ پنجاب کے ایک کونے سے دوسرے تک علما و مشائخ اور مذہبی راہنماوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کو متحرک کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حالات و واقعات میں بہتری نظر آ رہی ہے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور یہی اسکا سرکاری مذہب ہے یہاں مذہبی آزادی ہے جس کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے،دوسری طرف کینیڈا کا کوئی سرکاری مذہب نہیں مگر یہاں مکمل مذہبی آزادی ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر کوئی اپنے مذہب کی پیروی کرنے میں آزاد ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہمیں امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے مگر ہم اس سبق سے کوسوں دور ہیں،اور ایک یہ کینیڈا ہے جسے ہم غیر مسلموں کا ملک کہتے ہیں، یہاں بیسیوں امام بارگاہیں ہیں، جہاں محرم کے ایام میں مجالس کے دوران رات کے وقت یہاں لوگ امام حسینؓ کی یاد میں اکٹھے ہوتے ہیں۔
کینیڈا کے اکثر شہروں میں ایکطرف چرچ اوردوسری طرف مسجد جبکہ تھوڑی دوری پر سکھوں کی عبادت گاہ گرودوارہ بھی موجود ہوتا ہے، ہندوؤں کے مندر بھی یہاں موجود ہیں، سکھ کمیونٹی کا تو ایک پورا شہر ہی یہاں آباد ہو چکا ہے جسے بریمٹن کہا جاتا ہے۔ میں نے سوچا سماجی حسن کیا ہوتا ہے؟ یہ مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارہ ہوتاہے اور یہ سب کچھ ہمیں اسلام اور ہمارے پیارے نبیؐ نے سکھایا ہے مگر افسوس آج کل یہ سب کچھ ہی ہمارے معاشرے سے غائب ہے یا کم کم ہے، میں ان دنوں جس معاشرے میں ہوں یہاں یہ سب کچھ پایا جاتا ہے،یہ کینیڈین معاشرہ ہے۔یہاں اچھی یونیورسٹیاں ہیں علم کے نورسے جیسے جیسے دنیا کا طول و عرض روشن ہو رہا ہے رجعت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہورہا ہے،مادی ترقی کیساتھ سوچ اور فکر بھی ترقی پذیر ہے۔ہرقسم کی عصبیت سے انسانی آبادی کی اکثریت بیزار ہے اگر چہ دیگر تعصبات کی آگ بھی پوری طر ح بجھ نہیں پائی،تا ہم اسکی شدت میں کسی حد تک کمی آچکی ہے۔نفرت کی آگ میں جلتے کرہ ارضی پر ایک خطہ مگر ایسا ہے جہاں ہردین، مذہب،مسلک کے پیروکار آباد ہیں لیکن عصبیت نام کو نہیں،جی ہاں یہ کینیڈا ہے،جہاں سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہے،اگر چہ اس مذہب کے پیروکار بھی فرقوں اورگروہوں میں تقسیم ہیں،مگر سب مل جل کر رہتے ہیں،رومن کیتھولک 38.7فیصد آبادی کیساتھ سب سے بڑا مذہب ہے مگر عیسائیت کے پیروکاروں کی تعداد 67.3 فیصدہے،ان میں پروٹسٹنٹ، آرتھوڈکس، میتھوڈسٹ اورانجلیکنزبھی شامل ہیں۔اسلام یہاں کا دوسرا بڑا مذہب ہے،مسلمان 3.7 فیصد کیساتھ یہاں کی سب سے بڑی اقلیت ہیں،سکھ برادری 1.5فیصدی آبادی کے ساتھ دوسری بڑی اقلیت ہے،ہندو،بدھ مت،جین مت اوریہودی بھی کینیڈین معاشرے کا جزولاینفک ہیں،مگر سب بھائی چارے سے رہتے اور مل کر اپنا کام کاج کرتے ہیں۔ 18ویں صدی سے قبل جب فرانس اور برطانیہ سے نقل مکانی شروع نہیں ہوئی تھی کینیڈا میں اکثریت روحانیت پر یقین رکھتی تھی،بہت بڑی تعداد میں حضرت ابراہیم ؑ کے پیروکار بھی آباد تھے اگر چہ تعلیمات براہیمی خواب و خیال ہو چکی تھیں مگر خدا پرلوگوں کا یقین تھا، فرانس نے یہاں سب سے پہلے رومن کیتھولک چرچ قائم کیا،برطانیہ نے چرچ آف انگلینڈ کے تحت پروٹسٹنٹ کی بنیاد رکھی،سوویت یونین سے آرتھوڈکس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد بھی انہی دنوں کنیڈا منتقل ہوئی،میتھوڈست بھی آہستہ آہستہ نقل مکانی کر کے کینیڈا کی سکونت اختیار کرنے لگے،جس کے بعد مسیحیت اس ملک کا سب سے بڑا مذہب بن گیا۔دنیا بھر سے مسلما ن بھی اچھے مستقبل کی تلاش میں یہاں منتقل ہوئے، گولڈن ٹمپل پر بھارت کی فوج کشی کے بعد کینیڈین حکومت نے خالصہ برادر ی کیلئے اپنے ملک کے دروازے کھول دئیے،جس کے بعد قابل ذکر تعداد میں سکھ بھی نقل مکانی کر کے یہاں شفٹ ہو گئے،آج یہ سب کینیڈین ہیں،اپنے اور اپنے خاندان کیلئے معاش کمانے کیساتھ کینیڈاکی ترقی و خوشحالی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،اسی طرح افغانستان میں روسی جارحیت کے بعد افغانوں نے جہاں پاکستان میں نقل مکانی کی وہاں ان کی بڑی تعداد کینیڈا میں بھی پہنچ گئی۔
کینیڈا کا کوئی سرکاری مذہب نہیں،لامذہب لوگوں کی بھی بڑی تعداد یہاں رہائش پذیر ہے،مگر کسی مذہب کو سرکاری قرار نہ دینے کی وجہ لا مذہب لوگ نہیں بلکہ کینیڈا کی حکومت اور شہریوں کا اعتقاد ہے کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور ہر شہری کو اس حوالے سے آزادی حاصل ہے،جو مرضی مذہب اختیار کرے اور جس طرح چاہے اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کرے کسی کو دوسرے پر اعتراض نہیں، اسی بناء پر کینیڈامیں مذہبی رواداری عروج پر ہے۔معاشرے اور سماج کو پر امن بنانے کیلئے اور شہری حقوق کے تحفظ کیلئے اسلام نے جو تعلیمات اپنے پیروکاروں کو دیں ان کااطلاق آج کسی اسلامی ملک میں دکھائی نہیں دیتا مگر کینیڈا وہ ملک ہے جہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کینیڈین معاشرہ میں عدل وانصاف،تعلیم و صحت کی سہولیات،رواداری عام ہے۔شخصی اور مذہبی آزادیوں نے کینیڈین معاشرے کو لازوال اور بے مثال بنا دیا ہے، دنیا کے باقی ممالک اور ریاستوں کو اس معاشرہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے ممالک میں بھی رواداری کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے شہریوں اورہمسایہ ممالک کو جینے کا حق دینے کیلئے اقدامات بروئے کار لانے ہوں گے۔ آخری بات یہ کہ پاکستان اور خاص طور پر اسلامی ممالک کو اپنے شہریوں کو حقوق اور مراعات دینے کیلئےکینیڈا کی تقلید کرنا ہو گی،ہمیں اگر دنیا کو جنت بنانا ہے تو ضروری ہے کینیڈین طرز کا معاشر ہ تشکیل دیں۔

