یہ دنیا ہی عجیب ہو گئی ہے، کسی پر اعتبار اور اعتماد بہت مشکل ہو چکا، حضرت آدم ؑ کی یہ اولاد مفاد پرست ہو چکی اور ہم اسلامی بھائی اپنے پیارے رسول ؐ کے فرامین کو نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور دنیا میں اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔ دعا ہے کہ ہم (مسلمان) راہ راست پر آ جائیں اور وقت کے دجالوں سے اللہ سے مدد مانگ کر نبرد آزما ہوں۔
یہ تو میری دل کی آواز اور بھڑاس ہے جو میں کبھی کبھار نکالتا رہتا ہوں، اب اسی تناطر میں ہم خود اپنے وطن والوں کے حالات پر بھی نگاہ ڈال سکتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات و ہدایت کو فراموش کر کے ہر وہ کام کرتے ہیں جس کی ممانعت کی گئی ہوتی ہے۔حسد اور بہتان سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا لیکن ہم اس سے باز نہیں آتے۔ تجارت ہو، کھیل کا میدان، ملازمت ہو یا میل جول ہم خود کو محنت اور قابلیت سے ہٹ کر دوسروں میں عیب تلاش کرتے رہتے ہیں حالانکہ ضروری ہے کہ دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے کی بجائے۔ہم اپنی اہلیت اور اصلیت پر نگاہ ڈالیں اگر ہمارا کوئی نقصان ہو رہا ہے تو اس کی وجوہ جان کر انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔یہ نہیں کہ دوسروں کی ترقی سے حسد کریں اور تنقید کے بجائے مذمت کرنا شروع کر دیں ۔
ماضی کی بات کریں تو آج کے تعلیم یافتہ نوجوان سوشل میڈیا پر ترقی یافتہ دور کی کامیابیاں گنانا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ ہم بوڑھے لوگوں کا مقصد ماضی کی مثال دے کر برائی کو اچھائی تک لے جانا ہوتا ہے کہ ہم خود بھی تو جدید دور کی ایجادات سے مستفید ہو رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ دور ستاروں پر کمند ڈالنے والا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ کمندیں ہم (مسلمان) نہیں دوسرے ڈال رہے ہیں اور ہم انہی کی ایجادات سے مستفید ہو کر پھولے نہیں سماتے اور جنریشن گیپ کا ذکر کرتے ہیں۔ میں یہ سب مان لیتا اگر میرے سامنے جو گذر رہا ہے وہ بھی ترقی اور دیانت کا ہی حاصل ہوتا، لیکن بدقسمتی تو یہ کہ ہماری اہلیت صرف اتنی ہے کہ دوسروں کی تعریف کرتے اور ان کی ایجادات کو ہی سراہتے رہیں۔
بات کہیں اور نکل گئی تو میں یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ آج جو لوگ سائنس اور مغرب کی تقلید اور تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی تاریخ اور پھر کلام اللہ کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ میں یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ ماضی میں منجنیق اور سمندر میں ڈوبے جہاز نکالنے والی کرین بھی مسلمانوں نے ایجاد کی تھی حتیٰ کہ آج ہم جس سول لائیزیشن کی تعریف کرتے ہیں وہ بھی سپین کے ان مسلمانوں کی ایجاد ہے جنہوں نے طارق بن زیاد کے ساتھ کشتیاں جلا کر سپین کو فتح کیا اور وہاں طویل عرصہ حکومت کی اور پھر اپنی ہی کوتاہیوں سے یہ سب کچھ چھوڑ دینے پر مجبور ہوئے۔ میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا بھی انہی شکست خوردہ لوگوں کی ایجاد ہے جسے ہم غیروں کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ذرا غور کریں تو ہماری تمام تر بربادی خود ہماری اپنی کوتاہیوں کے باعث ہے اور آج بھی ہم سمجھنا اور غور کرنا نہیں چاہئے۔
ذرا غور فرمایئے۔ جب حضرت عمرؓ نے منبر پر کھڑے ہو کر اپنے سالار کو آواز دی”یاثاریہ الجبل یا ثاریہ الجبل“ کو سینکڑوں میل دور سالار نے آواز سنی لبیک کہا اور پہاڑ کے پیچھے سے آتے ہوئے دشمن کی چال کو ناکام بنا کر فتح حاصل کی، آج ہم ٹیلی ویژن، موبائل اور نیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں یہ سب مغرب کی یلغار ہے تو ہم نے خود کیوں نہیں سوچا کہ اگر حضرت محمدؐ کے ایک پیرو کار صحابیؓ اتنی دور تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے اور پھر قرآن ہی نے بتایا کہ چاند اور سورج اپنے مقررہ محور پر گردش کر رہے ہیں اور سورج کا چاند سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،یہ سب کائنات اور اس جیسی اور (سات کا ذکر ہے) کائناتیں اللہ کی دین ہیں فقط ہمیں غور کرنا تھا جو ہم نے نہیں کیا جنہوں نے مادہ پرست ہوتے ہوئے ایسا کیا اور وہ ایجادات کے حامل ہوئے۔
معاف کیجئے گا میری ذہنی رو بھی بھٹک جاتی ہے بہرحال ذکر حسد اور الزام کا تھا اور تعلق کھیل سے ہے کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے کہ کم ممالک میں کھیلے جانے کے باوجود اس کی شہرت زیادہ ہو گئی اور اس میں پیسہ بھی آ گیا۔چنانچہ اس کھیل میں جو توجہ کھیل سے حوالے سے تھی اس میں مالی منفعت بھی آ گئی اور اسی وجہ سے حسد اور مذمت کا عمل بھی آ گیا، کون نہیں جانتا کہ ہمارے ملک میں لوگ اپنی ناکامیوں اور خامیوں پر نظر نہیں ڈالتے اور دوسروں کی ٹانگ کھینچنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ہم جب زمانہ طالب علمی میں کھیل کے میدان میں ہوتے تو ہم کو بھی غصہ آتا تھا لیکن اساتذہ اور ڈرل ماسٹر حضرات کی مہربانی سے ہم نظم و ضبط کے پابند تھے۔ تب بھی حسد اور مذمت والا کام ہوتا اور دوسروں کی کارکردگی میں کیڑے نکالے جاتے تھے اور پھر ہم نے اپنے دور جوانی میں علاقائی حسد کا بھی مظاہرہ دیکھا، کھیل کے اندر تو کھلاڑی اکثر ایک دوسرے سے شکوہ کناں ہوتے لیکن نظم و ضبط میں رہتے ایسا بھی ہوتا ہے،لیکن جو صوبائی حسد سلیکشن اور تنقید میں ہوتی ہے وہ اب بھی جاری ہے۔
میں بہت دور نہیں جاتا اور نہ کئی ایسی مثالیں دی جا سکتی ہیں جب کھلاڑیوں کے کیرئیر تباہ کئے گئے اور ہماری کرکٹ ٹیم بن بن کر ٹوٹتی رہی۔ آج بھی ملک میں میرٹ روندا جاتا ہے اور دوسروں کی ترقی سے حسد کیا جاتا ہے میری بابر اعظم سے کوئی رشتہ داری نہیں لیکن وہ دنیا کا مانا ہوا بیٹر ہے اور عالمی ریکارڈ بناتا اور توڑ رہا ہے۔ اس پربوجوہ برا وقت آیا ہے تو ہمارے ”محروم دوست“ ایسے بھی ہیں جو اس کے خلاف میرٹ کا نام لے کر بلا میرٹ تنقید کرتے جاتے ہیں،میں سکندر،شہزاد اور راشد کی بات کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سب ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کی خامیوں کا ذکر کرتے ہیں حوصلہ افزائی کے لئے کسی بہتر تجویز کا ذکر کر نہیں کرتے۔ اگر یہ حضرات بعض ہمدرد اور سابق کرکٹرز کے طور پر یہ تجویز دیں کہ بابر اعظم اپنے سست سٹارٹ کی وجہ سے آج کی ٹی 20 کرکٹ سے از خود دستبردار ہو جائے تو الگ بات تھی۔ لیکن ان حضرات کو تو موقع ملتا اور یہ بابر کو نہ صرف ٹیم سے نکالنے کی بات کرتے ہیں،بلکہ اور بھی الزام لگاتے ہیں۔ جیسے اب شہزاد کا کہنا ہے کہ بابر کو چوتھے نمبر پر کھلا کر اس کی شمولیت کا جواز پیدا کیا گیا، حالانکہ میر ے خیال میں یہ بھی کپتان صاحب اور کوچ کا فیصلہ اور مہربانی ہے۔ اور بابر سے زیادتی نہیں تو اور بات اپنے تو یقینا حسد ہو گا۔ آسٹریلیا کے خلاف آخری میچ میں ففٹی کا ذکر تو کر دیں۔

