“مخصوص انداز میں رہنا اور نظر آنا مردانہ خوبصورتی سمجھی جاتی ہے” — دانیال ظفر

کراچی(کلچرل ڈیسک) نوجوان اداکار، گلوکار اور ماڈل دانیال ظفر نے اپنے حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں پاکستانی معاشرتی رویوں اور مردانہ خوبصورتی کے رائج تصورات پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پاکستان جیسے معاشرے میں مخصوص انداز، لباس اور لائف اسٹائل کو ہی مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ اس سے ہٹ کر رہنے والے افراد کو طعنوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

پوڈکاسٹ میں میزبان کی جانب سے دانیال ظفر سے سوال کیا گیا کہ آخر کیوں سوشل میڈیا پر ان کا موازنہ ٹک ٹاکر ناصر جان خان سے کیا جاتا ہے؟ اس پر دانیال نے مسکراتے ہوئے کہا، “لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی اُن مردوں جیسا بن جاؤں جنہیں وہ ‘اصل مرد’ سمجھتے ہیں۔”

دانیال ظفر نے واضح کیا کہ ہمارے معاشرے میں مردانگی کے کچھ مخصوص پیمانے مقرر کر دیے گئے ہیں جیساکہ “مرد کو پولو شرٹ پہننی چاہیے،گھڑی ہاتھ میں ہونی چاہیے،چھوٹی سی داڑھی ہونی چاہیے،گوچی یا ایل وی کا بیلٹ اور برانڈڈ جوتے پہنے ہونے چاہئیں اور بالوں کا خط مخصوص انداز کا ہونا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا، “اگر کوئی نوجوان ان روایتی معیارات پر پورا نہیں اترتا تو معاشرہ اسے مرد سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔”

دانیال کا کہنا تھا کہ فیشن اور لائف اسٹائل کا انتخاب ہر فرد کا ذاتی حق ہے، اور مرد ہونے کا مطلب صرف ظاہری حلیہ نہیں بلکہ انسان کا باطن، رویہ اور کردار بھی ہوتا ہے۔ “ہمیں وسیع النظری کے ساتھ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مردانگی صرف ایک مخصوص سانچے تک محدود نہیں ہو سکتی۔”

واضح رہے کہ سوشل میڈیا شخصیت ناصر جان خان کو ان کے فیشن، لباس اور اندازِ زندگی پر مسلسل طعنوں، تنقید اور مذاق کا سامنا رہتا ہے۔ انہیں “لڑکیوں جیسا لڑکا” اور “خواجہ سرا” جیسے القابات سے پکارا جاتا ہے — جو ہمارے معاشرتی رویوں پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں