کیا آپ جانتے ہیں کہ حکومتی اتحاد کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی ہے،،، جی ہاں ایسا ہی ہے! کیوں کہ سپریم کورٹ کے لارجر آئینی بینچ نے گزشتہ ہفتے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے، جولائی 2024ءکے عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں اُس نے کہا تھاکہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف(سنی اتحاد کونسل ) کا حق ہیں اور اُسے دی جائیں۔ اس فیصلے کے بعد مختصراََ یہ کہ اب حکومتی اتحاد جو چاہے، اور جس قسم کے چاہے قانون پاس کر سکے گا۔عدلیہ کا صرف یہی فیصلہ نہیں ہے، جو اُس کے جانبدار ہونے کا ثبوت ہے بلکہ اس سے پہلے مولوی تمیز الدین کیس نے نظریہ ضرورت کی بنیاد رکھی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو ٹرائل کیس دیکھ لیں،،، پھر جسٹس منیر کو دیکھ لیں جو قیام پاکستان کے بعد پنجاب چیف کورٹ (موجودہ ہائی کورٹ) کے چیف جسٹس بنے اور اس کے بعد فیڈرل کورٹ آف پاکستان (موجودہ سپریم کورٹ)کے چیف جسٹس بنے تھے۔وہ جج کی حیثیت سے اپنے طویل کیرئیر کے دوران اپنا کردار ادا کر کے 26جون 1981کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے،لیکن ان کی جانب سے دیے گئے غلط فیصلوں کا خمیازہ نہ جانے قوم کب تک بھگتتی رہے گی۔خیر اب کی بار یہی نہیں بلکہ اس فیصلے کو اب چیلنج بھی نہیں کیا جا سکے گا۔ اس حوالے سے تفصیلاََ آگے چل کر بات کروں گا مگر یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ فیصلہ کرنے والی قوتیں جو چاہتی ہیں، وہی حاصل کر رہی ہیں۔ ویسے تو یہ ثابت شدہ ہے کہ بہت سے ممالک میں حکومتیں بنانے اور ختم کرنے کا اختیار مقتدرہ اپنے پاس رکھتی ہے، مگر پاکستان میں بات اس سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ آپ یہاں بھی حکومت اپنی مرضی کی بنائیں، مگر عوام کی رائے کا بھی تو احترام کریں۔ اور ایسے لوگوں کو اقتدار میں لائیں جنہیں عوام نے منتخب کیا ہو۔ دنیا بھر میں ایسے ہی کیا جاتا ہے،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ امریکی الیکشن سے پہلے پینٹاگون بھی ٹرمپ کو پسند نہیں کرتا تھا، مگر عوام نے اُسے ووٹ دیااور اُسے سپر پاور کا صدر منتخب کروایا،اب عوام کے فیصلے کے بعد وہاں کی مقتدرہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سرخم تسلیم کیا ،،، اور اُس کے فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔ اور امریکی صدر بھی پینٹاگون کی بہت سی پالیسیوں کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ یا یہ بھی دیکھ لیں کہ ڈیموکریٹک اُمیدوار برائے میئر نیویارک ظہران ممدانی اپنے اسرائیل مخالف بیانات کی وجہ سے اور غزہ کے عوام کے ساتھ ہمدردیوں کی وجہ سے وہاں کی مقتدرہ کے لیے سخت ناپسندیدہ تھے۔ مگر عوام نے ممدانی کے حق میں ووٹ دیا،،، تو کسی نے ووٹ میں ردو بدل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اور عوام کی رائے کا خیال رکھا اور اس کا احترام کرتے ہوئے یہاں بھی سر خم تسلیم کر لیا۔ اب لاکھ ٹرمپ کہتا رہے کہ ممدانی بنیاد پرست ہے، ممدانی کے آنے کے بعد مسائل بڑھ سکتے ہیں،،، یا ممدانی کو تجربہ نہیں ہے،،، وغیرہ وغیرہ مگر وہاں کے عوام کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔
لیکن یہاں عوام کی رائے کا جو گزشتہ دو ڈھائی سال میں حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ خاص طور پر الیکشن 2024ءکے بعد عوام کا جو حال ہوا وہ بھی کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔ بلکہ یہاں بادشاہی نظام رائج کر دیا گیا ہے۔ جو مارشل لاءسے بھی اوپر کی چیز ہے۔ اور اس میں خطرناک ترین کام عدلیہ سرانجام دے رہی ہے۔ لیکن اس کو ہلکا نہ لیں کیوں کہ جس طرز پر یہاں عدالتیں کام کر رہی ہیں اُس نے خونی انقلاب آیا کرتے ہیں۔ پھر لوگ تنگ آکر مسلح جدوجہد کرتے ہیں۔کیوں کہ عدالتیں ایسی جگہیں ہوتی ہیں جہاں ہر مظلوم کو انصاف ملتا ہے، لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ دیر سے صحیح مگر یہاں سے انصاف مل ضرور جائے گا۔ لیکن یہاں سب کچھ بدل گیا ہے۔ اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ اس سے آپ ملک کی بہتری کر رہے ہیں تو خدا کے لیے ایسا نہیں ہے۔
بہرحال اگر بات کی جائے مخصوص نشستیوں کی تو یہ معاملہ گزشتہ سال فروری میں عام انتخابات کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس کی وجہ مختصراً یہ تھی کہ تحریک انصاف میں قواعد وضوابط کے مطابق بروقت انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے گئے تھے اور یہی بہانہ الیکشن کمیشن کو مل گیا۔ اور بقول الیکشن کمیشن اس ”کوتاہی“ کا نتیجہ انتخابات میں پارٹی کو ایک انتخابی نشان الاٹ نہ کیے جانے کی شکل میں برآمد ہوا۔ چنانچہ اس کے نمائندوں نے آزاد امیدواروں کی حیثیت سے مختلف انتخابی نشانات پر الیکشن میں حصہ لیا اور عوام نے انہیں پھر بھی جو ق در جوق ووٹ دیے۔ اور اسمبلیوں میں پہنچایا تاکہ اُن کے حقوق کی بات کی جائے۔ یہاں اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد تحریک انصاف کے اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کو اپنی جیتی ہوئی نشستوں کے مطابق مخصوص نشستیں الاٹ کیے جانے کے حوالے سے یہ آئینی اور قانونی سوالات اٹھے کہ کیا تحریک انصاف سے وابستہ کامیاب آزاد امیدواروں کی بنیاد پر مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو مل سکتی ہیں یا نہیں۔الیکشن کمیشن کے بعد یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچا۔پشاور ہائی کورٹ نے اپنے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ سنی اتحاد مخصوص نشستوںکی حقدار نہیں جبکہ سپریم کورٹ نے گزشتہ جولائی میں ان نشستوں کو اس جماعت کا حق قرار دیا۔ اسی دوران پارلیمنٹ میں�26ویں آئینی ترمیم کی منظوری بھی عمل میں آئی جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیلیں بھی دائر ہوئیں اور متعدد سماعتوں کے بعد گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پانچ کے مقابلے میںسات کی اکثریت سے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرلیں۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں نئی پارٹی پوزیشن بنے گی، 336 رکنی ایوان میں حکمران اتحاد کے پاس اس وقت 214 نشستیں ہیں، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) 110، پی پی پی 70، ایم کیو ایم 22، پاکستان مسلم لیگ (ق) 5،استحکام پارٹی 4، مسلم لیگ ضیائ ایک، بلوچستان عوامی پارٹی ایک، نیشنل پارٹی ایک شامل ہیں، یہ تعداد 214 بنتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں22 مخصوص نشستیں حکمران اتحاد کو ملیں گی اوراس کی کل نشستیں236 ہو جائیں گی جبکہ دو تہائی کی اکثریت کیلئے 224نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ خیبر پختون خوا میں بھی تحریک انصاف کی پوزیشن بری طرح متاثر ہوگی اور اس کی 58 نشستوں کے مقابلے میں اپوزیشن ارکان کی مجموعی تعداد 27سے بڑھ کر 52 ہوجائے گی۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے وفاق میں موجودہ حکومتی اتحاد یقینا بہت مستحکم ہوگیا ہے ۔ اب وہ یقینا پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے اور جو چاہے بل پاس کر سکتا ہے۔
لہٰذامیرے خیال میں حالات اس وقت تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، جس کا نقصان یہ ہوگا کہ ملک میں کوئی نظام نہیں بن سکتا۔ اور پھر یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب لڑائی شروع ہوتی ہے تو پھر نتیجے کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا۔ بھٹو کے دور کے بعد بھی حالات کچھ ایسے ہی تھے۔ لیکن پھر ملک کو شدید نقصان ہوا۔اس طرح کا نظام آخر میں ہمیشہ تباہی ہی لاتا ہے۔ ٹھوس جمہوریت میں ہر چیز پر بحث ہوتی ہے، کوئی بھی قانون سازی کرنی ہوتو پارلیمنٹ میں اُسے لایا جاتا ہے۔ جبکہ اس قسم کے نظام میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایسے نظام میں ہمیشہ فرد واحد فیصلے کرتا ہے۔ اور وہ فیصلے خواہ ملک میں روس افغان جنگ میں امریکا کا ساتھ دے کر ملک میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے ہوں یا امریکا افغان جنگ میں امریکا کا ساتھ دے کر طالبان کو مستقل دشمن بنانے کے ہوں، یا ملک میں کلاشنکوف کلچر کے عام کرنے کے ہوں، یا عافیہ صدیقی کو امریکا کے حوالے کرنے کے ہوں، یا امریکا کو اپنے ہوائی اڈے دینے کے ہوں یا کسی بھی قسم کے فیصلے ہوں ،،، وہ سب فرد واحد کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ لہٰذااگر یہی نظام جاری رہا تو اس کی ساری ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر ہوگی، پھر اس میں تحریک انصاف بھی بری الذمہ نہیں ہوگی۔ اور نہ ہی شریف خاندان اور نہ ہی زرداری خاندان بری الذمہ ہوگا۔کیوں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں اس وقت طاقت ہے، اورانہی کے فیصلوں کی وجہ سے آج ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں۔
بہرکیف آپ اُس طرف ملک کو نہ لے کر جائیں،،، آپ دفاع کو بنیاد بنا کر جو مرضی کرتے رہیں گے، تو خدارا ایسا نہ کریں۔۔۔ جن ملکوں میں آپ نہیں ہیں وہ بھی زندہ ہیں۔ آپ اگر ایران کی طرز پر سپریم کمانڈر بننا چاہتے ہیں ،،، تو عدالتوں کو انصاف دینے کے قابل تو بنائیں۔ کہ وہ عوام کو کم از کم انصاف تو دے سکیں۔ لیکن فی الوقت تو ایسا ہے کہ عدالتوں سے آپ نے اپنے حق میں فیصلے تو کروا لیے ہیں مگر اس امیج پر کہ لوگ سر پیٹنا شروع ہو جائیں۔ لہٰذاآپ کالے کو سفید نہ کہیں۔ لوگ یقین نہیں کریں گے۔ آپ کالے کو گرے تو کہہ سکتے ہیں،،، مگر کوئی یہ کہے کہ آپ کالے کو سفید کہہ رہے ہیں تو یہ مکارانہ جھوٹ ہوگا۔ لہٰذاایسا نہ کریں۔
اور جو لوگ اس بات پر خوشی منارہے ہیں کہ جب نوازشریف کے ساتھ ایسے ہوا تھا، یا زرداری جیل میں رہا تو تب کیا تھا،،، تو یہ سب کچھ دوبارہ ہوگا۔ اور کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگلی دفعہ جب یہ لوگ اپوزیشن میں ہوں گے تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ اس لیے میرے خیال میں اداروں کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور اس وقت یہ جو ہر طرف رٹ لگی ہوئی ہے کہ عدلیہ میں تیرے جج اور میرے جج ۔۔۔ اس سے بچنے کے لیے میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ آپ عدلیہ میں بھی سی ایس ایس قسم کا نظام لے آئیں کہ اگر آپ نے جج بننا ہے تو فلاں ٹیسٹ پاس کریں تب ہی آپ کی ترقی ہوگی۔ ایسا کرنے سے ہم بہت سی قباحتوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو چیف آف آرمی سٹاف کے حوالے سے بھی کہتے ہیں کہ موسٹ سینئر آرمی آفیسر کو آرمی چیف لگا دیں۔ ایسا کرنے سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ جب ہم اس قابل ہوجائیں کہ ہم نے جمہوریت کو بچانے کے لیے سسٹم کو مضبوط کر لیا ہے ، اور اس پر 20،25سال محنت بھی کی ہے تو پھر آپ قوانین میں جیسی مرضی تبدیلیاں لائیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ لیکن فی الوقت اگر آپ یہ کہیں کہ آپ کی نیتوں میں فتور بھی ہو اور پھر آپ ترامیمی مسودہ دکھائیں بھی نہ اور پھر کہیں کہ یہ راتوں رات پاس بھی ہو جائے تو یہ محض دیوانے کا خواب ہے۔ بقول شاعر
نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی
گڑھ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

