لاہور / اسلام آباد(اے پی پی، اے ایف پی)تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنان مریدکے اور سادھوکے میں تیسرے روز بھی دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جب کہ حکام نے اسلام آباد اور موٹروے ایم ٹو و ایم تھری کو ٹریفک کیلئے بحال کر دیا ہے۔ مظاہرین فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
موٹروے حکام کے مطابق اتوار کے روز ایم ٹو (لاہور تا اسلام آباد) اور ایم تھری (لاہور تا عبدالحکیم) کو مکمل طور پر ٹریفک کیلئےکھول دیا گیا۔ تاہم مریدکے اور سادھوکے کے مقامات پر تحریک لبیک پاکستان کے سینکڑوں کارکن دھرنے میں موجود ہیں اور جی ٹی روڈ کے متعدد حصے جزوی طور پر بند ہیں۔
ایک روز قبل ٹی ایل پی کا مرکزی جلوس پولیس کی سیکیورٹی رکاوٹوں کو توڑ کر مریدکے پہنچ گیا تھا، جہاں جی ٹی روڈ کے اطراف کھودی گئی خندقوں کے باعث جلوس کی پیش قدمی رک گئی۔ لاہور میں ہونے والے تصادم کے دوران درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جس کے بعد مظاہرین نے مریدکے میں ہی دھرنا دینے کا اعلان کیا۔
ٹی ایل پی کے ترجمان عثمان نوشاہی کے مطابق کارکن ابھی مریدکے اور سادھوکے کے درمیان موجود ہیں اور اسلام آباد کی طرف پیش قدمی فی الحال روک دی گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج فلسطینی عوام سے یکجہتی کے اظہار کیلئےہے۔
اسلام آباد میں حکام نے شہری نقل و حرکت کو بحال کرتے ہوئے مارگلا روڈ، جناح ایونیو، سیونتھ ایونیو، فضلِ حق روڈ، ناظم الدین روڈ، نائنتھ ایونیو اور کورنگ روڈ سمیت تمام اہم شاہراہوں کو کھول دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق وفاقی حکومت نے پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے 1200 سے زائد نیم فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں تاکہ کسی ممکنہ تصادم یا پیش قدمی کی صورت میں حالات قابو میں رکھے جا سکیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ٹی ایل پی کے تقریباً 300 کارکنوں نے ڈھوک عباسی کے قریب جی ٹی روڈ بند کر دی تھی اور حکومت مخالف نعرے لگائے تھے۔ پولیس کے انتباہ کے باوجود راستہ نہ کھولنے پر مظاہرین کیخلاف کارروائی کی گئی، جس میں 90 افراد کو گرفتار اور ان کا ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مریدکے اور اس کے اطراف کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے تاہم موبائل ڈیٹا سروسز جزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رات کے وقت کچھ شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں تاکہ عام شہریوں کو نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے، تاہم حساس مقامات پر سیکیورٹی الرٹ برقرار ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی غیر قانونی پیش قدمی یا تصادم کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ٹی ایل پی کے رہنماؤں سے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ صورتحال کو پرامن طور پر حل کیا جا سکے۔

