اج دیہاڑی فیرنالائی کل توروٹی کسے نہ کھائی
خون دی بوتل دے آیاہاں تھوڑے پیسے لے آیاہا
مسی ساگا(نمائندہ خصوصی)انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس کینیڈااورفرینڈزآف کراچی کے زیراہتمام ایک مشاعرہ کا اہتمام کیاگیا۔یہ مشاعرہ دنیااردوکے معروف شعراعبیداللہ علیم اورخالدحمیدی کی یادمیں منعقدکیاگیا۔

مذکورہ مشاعرہ کےمہمان خصوصی ڈاکٹر محمد زبیر الفاروق العرشی تھے جبکہ صدارت کے فرائض کرامت اللہ غوری نے سنبھالے ۔مشاعرہ کی نظامات چیئرمین انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس کینیڈاشعیب ناصر کے پاس رہی ۔

مشاعرہ میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس کینیڈابشارت ریحان کے علاوہ قیصرواجد،نسرین سید،ڈاکٹرشاہینہ کشور، عابد رشید – شکاگو، فاطمہ زہرا جبین، قیصر اقبال وجدی،رشیدندیم ،عبدالحمید حمیدی،منورعزیز،ڈاکٹروسیم گردیزی ،طارق حمید،حضرت شام ،جسٹس توقیراحمد خان ،انورکاظمی ،جنیداختر،سلمان اطہر،سکندرعبدالخیر، ڈاکٹرعظمیٰ محمود،پروین سلطانہ صبا،نبیلہ میر، ڈاکٹر جگموہن سنگھ سانگھا،شاہدہاشمی اورشہزادمحمودسمیت دیگر نامورشعرانے اپنااپناکلام پڑھا۔

کچھ شعراکاکلام قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش خدمت ہے.
“کرامت غوری ”
بکناجوچاہتے توخریدارکم نہ تھے
اس بے وطن کومصرکے بازارکم نہ تھے
نیلامی پے جولگاتے اپنے ضمیرکو
بولی لگانے والوں میں زردارکم نہ تھے
“پروین سلطانہ صبا”
اس حسین گلشن میں اس صباکے جھونکے نے
جھوم کے یہ پوچھاہے کیامجھے اجازت ہے
اج دیہاڑی فیرنالائی کل توروٹی کسے نہ کھائی
خون دی بوتل دے آیاہاں تھوڑے پیسے لے آیاہا
“شعیب ناصر”
نہ زندگی میں کبھی بھی سکون پائوگے
جوتم پہ گزرے گی کس کس کووہ بتائوگے
یہ بات یکساں ہے بیوی میں اورسگریٹ میں
تباہ کردے گی اس کواگرجلائوگے
“ڈاکٹروسیم گردیزی”
پچھیامیں پرچھاویں کولوں کیوں ٹرنااے میرے نال
ہس کے اگوآکھن لگادوجاکون اے تیرے نال
لگدااے ہن عینک لانی پینی اے
ہربندے داچہراہن دودودسدااے
“ڈاکٹر شاہینہ کشور”
اب نہ کہناکہ تجھ سے محبت نہیں
دیکھ کشورمحبت میں کیاہوگئی
عشق میں جس کے جل کے فناہوگئی
وہ یہ کہتاہے میں بے وفاہوگئی

