مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) اسکاٹش مورخ اور مصنف ولیم ڈلریمپل(William Dalrymple) کی تیسری کتاب “The Golden Road” کی تقریب رونمائی مسی ساگا میں منعقدکی گئی۔ تقریب کا اہتمام اسماارشد اور ارشدمحمود نے کیاتھا.تقریب میں ولیم ڈلریمپل (William Dalrymple) کی تحقیقات اور پرانے ہندوستان کی تاریخی اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی۔
اسماارشد نے “جنگ نیوزکینیڈا”کو بتایاولیم ہمارے بہت پرانے دوست ہیں۔ ولیم ڈلریمپل کے کئی سالہ تحقیقی کام کے بعد یہ تیسری کتاب “The Golden Road” پیش کی جا رہی ہے۔”The Return of the King” آغاخان میوزیم اور “The Anarchy” کورائل اونٹاریومیوزیم میں متعارف کرایا جا چکاہے۔
ہم نے اس دفعہ سوچا کہ مسی ساگاکے پڑھنے والوں کو ہمیشہ ٹورنٹو جانا پڑتا ہے، انہیں اس دفعہ ولیم ڈلریمپل کے ساتھ مسی ساگا میں ہی موقع دیں۔ اور یہ ایک اہم کتاب ہے جو ولیم نے لکھی ہے۔ یہ کتاب ہم سب کیلئے بہت ضروری ہے، خاص طور پر پاکستانی تارکین وطن کیلئے۔ ہمیں یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا کوئی عرب یا ترک دوست بھی موجود ہو۔ ہم سب ہندو تھے۔ ہماری اصل شناخت ہندوستان ہے اور یہ کتاب بہت خوبصورت ہے جو ولیم نے لکھی ہے۔ یہ پرانے ہندوستان کی کہانی بیان کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کتاب خاص طور پر پاکستانی اور برصغیر کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے نہایت اہم ہے اور اس سے قارئین کو اپنے بزرگوں کی علمی خدمات اور تاریخی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح علم جمع کیا گیا، برہمنوں نے علم کو اپنے خزانے میں محفوظ کیا۔ ان کا مقصد علم کو جمع کرنا تھا، ریاضی، طب اور دیگر شعبوں میں انہوں نے بہت کام کیا۔ پھر یہ علم کیسے دنیا میں پھیلا؟ عربوں نے ہندوستان کی ریاضی سیکھی، پھر عربوں نے اسے آگے بڑھایا، اور بعد میں یورپیوں کو سکھایا، اور یوں ریاضی دنیا بھر میں پھیل گئی۔
یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے بزرگ، جن کی نسلیں ہم ہیں، کتنے اہل تھے اور انہوں نے دنیا میں علم کو آگے بڑھانے میں کتنا کام کیا۔ ولیم کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے یہ مضبوط اور عمدہ کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام “The Golden Road”ہے اور یہ اب ہر جگہ دستیاب ہے۔ آپ اسے پڑھ سکتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔
گفتگو کے دوران یہ بھی واضح ہوا کہ William Dalrymple کی دیگر کتابیں جیسے “The Last Mughal” اور “White Mughals” بھی تاریخی تحقیق اور تفصیل کیلئےعالمی سطح پر مشہور ہیں.
انگریزی کے علاوہ دیگرزبانوں میں ترجمہ کےسوال پر اسماارشدکاکہناتھاکہ بالکل ترجمہ ہوگا، یہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دستیاب ہوگا۔ ولیم کی دیگر کتابیں بھی ضرور پڑھیں۔ خاص طور پر’’The Last Mughal‘‘،جو مغلیہ سلطنت کے آخری پندرہ دنوں کی کہانی ہے، یہ اتنی مفصل ہے کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ ولیم ڈلریمپل نے کتنی تحقیق کی ہے۔ یہ کتاب اردو میں بھی شائع ہو چکی ہے دیگر زبانوں میں بھی دستیاب ہے۔ میری سب سے پسندیدہ کتاب’’White Mughal‘‘ہے، جو حیدرآباد دکن کی تاریخ بیان کرتی ہے اور بہت خوبصورت کہانی کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔
ایک سوال کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمارے، جو برصغیر کے لوگ ہیں، ان کی تاریخ غیر ملکی لکھ رہے ہیں؟کے جواب میں اسماارشدنے کہا جی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ تجسس نہیں رکھتے۔ ولیم ڈلریمپل نے جب مجھے بتایا کہ انہوں نے تحقیق کی، تو جب تحقیق کھولی گئی، 1847 میں لگی ہوئی مہر اب تک کھولی نہیں گئی تھی۔ یعنی کسی نے کبھی یہ سہمت نہیں کی کہ اسے پڑھا جائے۔ ولیم نے یہ سارا کام کیا اور ہم ان کے بہت مشکور ہیں۔ نہ صرف وہ، بلکہ ولیم کے بیٹے سام ڈلریمپل بھی مصنف اور مورخ ہیں، بہت اعلیٰ مورخ ہیں۔ ان کا فارسی اور سنسکرت پر عبور ہے اور انہوں نے بہت عمدہ کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی نئی کتاب بھی آنے والی ہےجسے ہم جلد پیش کریں گے۔

