واشنگٹن (ایجنسیاں) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک بڑی فوجی قوت کے ساتھ غزہ میں داخل ہو کر حماس کو قابو میں لانے کیلئے تیار ہیں، اگر یہ تنظیم امن معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ “مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح کے ہمارے عظیم اتحادی ممالک نے مجھے بتایا ہے کہ اگر حماس ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتی ہے اور میں درخواست کروں تو وہ غزہ میں ایک بڑی فوجی قوت کے ساتھ داخل ہو کر حماس کو سیدھا کرنے کیلئے تیار ہیں۔”
صدر نے مزید کہا کہ موجودہ محبت اور جذبہ جو مشرق وسطیٰ میں نظر آ رہا ہے، وہ ہزار سالوں میں نہیں دیکھا گیا، اور یہ ایک نہایت خوبصورت منظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ان ممالک اور اسرائیل کو ابھی کارروائی نہ کرنے کا کہا ہے، تاکہ حماس کو درست راستہ اختیار کرنے کا موقع ملے، مگر اگر ایسا نہ ہوا تو حماس کا خاتمہ تیز، شدید اور بےرحمانہ ہوگا۔
ٹرمپ نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جو امداد اور تعاون کیلئے فون کر چکے ہیں اور خاص طور پر انڈونیشیا اور اس کے رہنما کی حمایت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی میزبانی کے دوران کہا کہ حماس کے ساتھ معاہدے کے تحت انہیں اچھا برتاؤ کرنا چاہیے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو امریکی حکومت انہیں ختم کرنے کی کارروائی کریگی۔
صدر نے واضح کیا کہ”اگر ضروری ہوا تو ہم جائیں گے اور انہیں ختم کر دیں گے اور انہیں یہ معلوم ہے۔”

