مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام سے گریز کرے:فرانس، جرمنی اور برطانیہ کا ایران پر دباو

پیرس، برلن، لندن(ایجنسیاں)امریکا کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد یورپ کے تین بڑے ممالک — فرانس، جرمنی اور برطانیہ — نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہے اور تعمیری مذاکرات کا حصہ بنے۔

سی این این کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز، اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ“ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ ہم اسرائیل کی سلامتی کے حق میں ہیں اور خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافہ قبول نہیں کیا جائے گا۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ“ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے بامعنی مذاکرات میں شامل ہو جو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام بین الاقوامی خدشات کو دور کر سکیں اور ایک مؤثر معاہدے کی راہ ہموار کریں۔”

بیان میں تینوں ممالک نے خطے میں امریکا کی کارروائیوں، خصوصاً فوردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

تینوں یورپی ممالک نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا“ہم کشیدگی کو کم کرنے اور اس تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئےمشترکہ سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے اور تمام فریقین کے ساتھ ہم آہنگی میں خطے کے امن اور سلامتی کیلئےکام کریں گے۔”

بیان کے آخر میں ایران کو متنبہ کیا گیا کہ کوئی بھی ایسا قدم جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو، وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی سلامتی کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں