پاکستان میں آج کل سیاسی، معاشی اور سماجی مباحث کے ساتھ ایک اور رجحان نمایاں ہو رہا ہے: نسلوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کر دیکھنے کا انداز۔ میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا پر نئی اور پرانی نسل کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ ایک ہی معاشرے کے حصے نہیں بلکہ متوازی فریق ہوں۔ یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ پرانی قیادت ناکام ہو چکی ہے، نظام ناقابلِ اصلاح ہے، اور نوجوان نسل خود کو اس سے الگ کر چکی ہے۔ اگرچہ اس مایوسی کی بعض وجوہات حقیقت پر مبنی ہیں، مگر یہ سوچ کہ ایک نسل دوسری کی جگہ مکمل طور پر لے سکتی ہے یا اخلاقی طور پر اس سے برتر ہے، معاشروں کے فطری ارتقا کو سمجھے بغیر قائم کی گئی ہے۔
تاریخ میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جسے ایک ہی نسل نے تنہا بنایا، چلایا یا سنبھالا ہو۔ ریاستیں کسی اسٹارٹ اپ کی طرح نہیں ہوتیں کہ”پرانا کوڈ” حذف کر کے نیا نظام چلا دیا جائے۔ یہ پیچیدہ، تہہ در تہہ نظام ہوتے ہیں جن میں تسلسل، ادارہ جاتی یادداشت، تجربہ اور جدت ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ نسلی اختلاف فطری ہے، مگر نسلی دشمنی تباہ کن ہوتی ہے ، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ادارے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔
یہ خیال کہ صرف جنریشن زی (Gen Z) ملک کو نئی سمت دے سکتی ہےایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے. طاقت، نظام اور ذمہ داری یک دم منتقل نہیں ہوتے۔ حکمرانی، خارجہ پالیسی، معیشت اور دفاع محض جذبے سے نہیں چلتے بلکہ دہائیوں کے تجربے سے بنتے ہیں ، اکثر ناکامیوں کے بعد۔ بڑی نسلیں تاریخی تناظر اپنے ساتھ رکھتی ہیں: جنگیں، اتحاد، پالیسیاں اور ان کے نتائج۔ جنرل ایکس اور ملینیئلز ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ پرانے اداروں کو نئی حقیقتوں سے جوڑتے ہیں۔ جبکہ جنریشن زی توانائی، اخلاقی دباؤ اور سوال اٹھانے کی جرات لاتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ کر دیا جائے تو پورا ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے۔
معاشروں کی ساخت کو اگر ایک خاندانی نظام سے تشبیہ دی جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ کیا کوئی خاندان دادا، باپ اور بیٹے میں سے کسی ایک کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے؟ دادا کے بغیر تجربہ اور یادداشت ختم ہو جاتی ہے، باپ کے بغیر نظم اور ذمہ داری کا ربط ٹوٹ جاتا ہے، اور بیٹے کے بغیر تسلسل اور مستقبل باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح کوئی بھی نسل اکیلے معاشرہ نہیں بنا سکتی۔ نسلیں ایک دوسرے کا نعم البدل نہیں ہوتیں، بلکہ ایک دوسرے کا تسلسل ہوتی ہیں۔
یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ بڑی نسلیں تنقید سے بالاتر نہیں۔ پاکستان کی معاشی بدانتظامی، سیاسی عدم استحکام اور غیر متوازن ترقی ناقابلِ تردید حقائق ہیں، اور احتساب ناگزیر ہے۔ مگر تنقید اس وقت نقصان دہ بن جاتی ہے جب وہ مکمل ردّ میں بدل جائے ، جب ہر تجربہ کرپشن اور ہر نوجوانی خود بخود دانائی سمجھ لی جائے۔
اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی جنریشن زی کو ایک سنجیدہ مسئلہ درپیش ہے جس پر کم ہی ایمانداری سے بات ہوتی ہے: واضح سمت کا فقدان۔
آبادی کے لحاظ سے جنریشن زی پاکستان کی سب سے بڑی نوجوان نسل ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، مگر بامقصد ڈیجیٹل شمولیت، تنقیدی شعور اور علمی پیداوار اس رفتار سے نہیں بڑھی۔ نوجوانوں میں اسکرین پر حد سے زیادہ وقت، توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ اور جذباتی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ سیاسی شرکت اکثر آن لائن غصے، شخصیت پرستی اور سادہ دو رنگی سوچ تک محدود ہو گئی ہے، جہاں پیچیدہ قومی مسائل نعروں اور شخصیات میں سمیٹ دیے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال فطری نہیں؛ یہ ایک منظم خلا کا نتیجہ ہے۔ شہری تعلیم، پالیسی فہم اور ادارہ جاتی شمولیت کی جگہ جذباتی وفاداری اور شناختی سیاست نے لے لی۔ جب کسی نسل کو سوچنے سے پہلے نعرہ لگانا سکھایا جائے تو نتیجہ بااختیار شہری نہیں بلکہ ردِعمل پر مبنی ہجوم ہوتا ہے۔ جذبہ، بغیر سمت کے، قومیں نہیں بناتا ، انہیں غیر مستحکم کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نسلی الزام تراشی سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ اگر جنریشن زی سمت سے محروم ہے تو اس کی وجہ محض “پرانی نسل کی سازش” نہیں، بلکہ ذمہ داری کی منتقلی کا وہ عمل ہے جو رہنمائی، ادارہ جاتی شمولیت اور طویل المدتی وژن کے بغیر ہوا۔ اسی طرح، نوجوانوں کو بھی یہ ماننا ہوگا کہ محض غصہ قیادت نہیں بنتا، اور اخلاقی یقین خود بخود حکمرانی میں نہیں ڈھلتا۔
پاکستان کسی نسلی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ معیشت کی بحالی، ماحولیاتی دباؤ، علاقائی سفارت کاری اور تعلیمی اصلاحات جیسے چیلنجز صرف نسلی تعاون سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ جنریشن زی کی ڈیجیٹل مہارت کو ملینیئلز کی عملی صلاحیت اور جنرل ایکس کے ادارہ جاتی تجربے کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ حتیٰ کہ بیبی بومرز ، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ، ریاست سازی اور بحرانوں سے نمٹنے کا ایسا تجربہ رکھتے ہیں جو کسی الگورتھم سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
مضبوط معاشرے تب بنتے ہیں جب نسلیں ایک دوسرے کو مٹانے کے بجائے اصلاح کرتی ہیں، اور خاموشی کے بجائے مکالمہ اختیار کرتی ہیں۔ جس لمحے کوئی نسل یہ سمجھے کہ وہ دوسروں کے بغیر چل سکتی ہے، وہی غرور دہراتی ہے جس کا الزام وہ اپنے بڑوں پر لگاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی نسل حکومت کرے، بلکہ یہ ہے کہ قیادت ذمہ داری کے ساتھ کیسے منتقل ہو۔ جنریشن زی کو نعروں سے آگے بڑھا کر معیشت، قانون، انتظام اور مصالحت سکھانا ہوگا ، اور خود بھی یہ سیکھنا ہوگا۔ بڑی نسلوں کو محض علامتی نہیں بلکہ حقیقی کردار دینا ہوگا۔ نوجوان نسل کو شخصیت پرستی سے نکل کر حقیقت پسند بننا ہوگا۔ اور ملینیئلز کو تماشائی بننے کے بجائے وہ پل بننا ہوگا جس کے بغیر یہ منتقلی ممکن نہیں۔
پاکستان کو نسلی فاتح نہیں چاہئیں۔ اسے نسلی تسلسل درکار ہے۔
اسی تسلسل میں ہی قومی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی اور دیرپا ترقی ممکن ہے ، ورنہ کوئی بھی نسل، نہ جوان نہ بوڑھی، اکیلے کامیاب نہیں ہو سکتی۔

