معاہدہ تو ہو ہی گیا، امن ہو جائے؟

غزہ میں امن کا معاہدہ ہو گیا جنگ بندی ہو گئی۔ معاہدہ پر ضمانت کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ ترکیے کے صدر اردوان، مصر کے صدر جنرل ایسیسی اور قطر کے امیر کی طرف سے دستخط کئے گئے، اس معاہدہ پر دنیا بھر میں اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ برطانوی وزیراعظم نے خیر مقدم کرتے حوئے نگہبان حضرات سے معاہدہ پر عمل اور خلاف ورزی کے حوالے سے گہری نظر رکھنے کا کہا اور ان کا کہا یوں بھی درست ہے کہ برطانیہ ہی کی مہربانی سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم ہوئی اور تاج برطانیہ کی کتابوں میں اس کے علاوہ اسرائیل کی بے قاعدگیوں کا بھی حساب درج ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہبازشریف بھی شرم الشیخ (مصر) میں ہونے والی اس تقریب میں شریک تھے اور انہوں نے پاکستانی موقف کا اعادہ بھی کیا ہے کہ فلسطین کی ریاست قائم ہونا چاہیے جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو۔

یہ سب دہرانے کی ضرورت اس لئے ہے کہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت شک میں مبتلا ہے اور اسرائیل کے حوالے سے شکوک کا اظہار کررہی ہے۔ عام لوگوں کی رائے ہے کہ اسرائیل نے عملی طورپر یہ ثابت کیا کہ وہ کسی آئین و قانون کو نہیں مانتا اور کسی وعدے یا قول کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور قیدیوں کے تبادلے کے بعد بھی اسرائیل کی طرف سے خلاف ورزی کی گئی ہے اور سب سے بڑی حرکت رفاہ کے راستے امدادی ٹرکوں کی آمد کو محدود کر دیا گیا کہ معاہدے کے بعد رفاہ کے باہر کھڑے ہزاروں امدادی ٹرکوں کی غزہ میں آمد شروع ہو گئی تھی جبکہ اس عرصہ میں وہ فلسطینی خاندان بھی واپس آئے جو غزہ چھوڑ گئے تھے، اسرائیل نے جھڑپ بھی کی اور خبروں کے مطابق چھ فلسطینی مزید شہید کر دیئے گئے۔ یوں وعدہ خلافی کا سلسلہ تو شروع ہو ہی گیا۔ ہم تو اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ مظلوم فلسطینیوں کی مشکلات آسان فرمائے۔

ان دنوں لکھنے کے لئے تو کئی موضوع ہیں، تاہم غزہ امن معاہدے کے حوالے سے گزارشات کرنا اس لئے ضروری جانا کہ میرے ذہن میں اللہ کی کتاب مقدس قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذکر یاد آ جاتا ہے۔ اس قبیلے نے بار بار نافرمانی کا مظاہرہ کیا حالانکہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ سے بنی اسرائیل کے لئے بار بار رعائتیں لیں اور ان کے مطالبات پورے کئے، لیکن یہ نافرمانی سے باز نہیں آئے۔ ان کے لئے من و سلویٰ آیا تو یہ ناشکرے ہوئے، ان کو ہفتے میں ایک روز مچھلی پکڑنے سے روکا گیا تو انہوں نے ترکیب اختیار کرکے نافرمانی کی، آج صہیونی وہ ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی غیرحاضری میں سامری جادوگر کی بنائی سونے کی گائے کو رب مان لیا تھا،حضرت موسیٰ ؑ کی عنایات ہیں کہ اس نافرمان قوم کو فرعون سے بچایا اور اللہ سے دعا کی جس کی بدولت دریا نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھ آنے والوں کو راستہ دیا اور جب یہ پار لگ گئے تو فرعون کو غرق کر دیا۔

اسرائیلی صہیونی وہ ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ سے دعا کے بعد فلسطین کا خطہ ان کے لئے مختص کیا تھا جو حقائق کے منافی ہے تاریخ کے مطابق حضرت موسیٰ ؑہر دم بنی اسرائیل کے لئے دعاگو رہے لیکن ان کی یہ سب دعائیں اس بنی اسرائیل کے لئے تھیں جو حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لاکر نیک راہ پر چلے اور چلنے کا وعدہ اور اہتمام کیا۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بیت المقدس نہ صرف بنی اسرائیل (حضرت موسیٰ ؑ کی تقلید والے) بلکہ عیسائیوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بھی قابل تعظیم و احترام ہے لیکن صہیونیوں کا اس پر کوئی حق نہیں، آج تک اس حوالے سے ایک سے زیادہ جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور آج کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔

میں آج ایک بار پھر یہ دہرانے پر مجبور ہوں کہ مصدقہ احادیث کے حوالے سے آج کے حالات بھی ثابت و ظاہر ہیں، جن کے مطابق مسلمانوں کے پاس بے انتہا دولت کا آنا، ان کی امارت، آسمان کو چھوتی عمارتیں اور سیال سونا موجود ہے۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ یہ انتباہ بھی ہے کہ مسلمان اعمال کے حوالے سے کمزور ہو جائیں گے اور ان کی یہی کمزوری دشمن کے سامنے ان کو کمزور کرے گی۔ آج یہ سب ثابت شدہ ہے کہ دنیاوی لحاظ سے مسلمان امیر و کبیر ہیں لیکن اعمال کے لحاظ سے اتنے کمزور ہو چکے کہ چند لاکھ کی ایک چھوٹی ریاست اسرائیل ان پر حاوی ہے، صہیونی ریاست نے بالاارادہ اپنی حربی قوت میں اضافہ کیا، امریکہ اور مغرب سے جدید سے جدید اسلحہ حاصل کیا اور مسلمانوں سے ان کے علاقے چھینے جبکہ غزہ میں باقاعدہ نسل کشی کی۔ آج یہ حالات ہیں کہ غزہ کے لاکھوں باشندوں کی شہادتیں اور ان کی معذوری کے بعد مسلمان ممالک امریکی صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے شرم الشیخ آنے سے قبل تل ابیب میں اسرائیلی اسمبلی سے خطاب کے دوران پھر واضح کیا کہ امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار ہیں۔ اسرائیل (نیتن یاہو) نے ہم سے مانگے اور ہم نے ان کو دیئے اور اس نے ان کا بہترین استعمال کیا، یہ استعمال کس کے خلاف ہوا کیا اس کی تشریح بھی ضروری ہے، سب کے سامنے ہے جو کچھ ہے اور اس حوالے سے مزید کیا کہا جا سکتا ہے۔

بہرحال میں بزرگوں کی تحقیق کے حوالے سے یہ عرض کروں گا کہ احادیث مبارکہ کے مطابق مسلمانوں کے تمام حالات بیان کرتے ہوئے قیامت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو قرآن مجید میں ہے۔ بتایا جا چکا کہ قیامت سے پہلے دجال اور اس سے قبل کئی چھوٹے چھوٹے دجال اور جھوٹے نبی آئیں گے، جھوٹے نبی اور چھوٹے دجال اپنی اپنی موت مریں گے اہم دجالی قوتیں (آج کے حوالے سے اسرائیل اور اس کے حامی) مسلمانوں سے برسرپیکار رہیں گی اور بڑے دجال کی آمد سے قبل زمین پر ان کو تین شکستوں کا سامنا ہوگا اور آخری شکست دجال کے باعث ہوگی جس کے بعد حضرت مہدی ؑ کا ظہور ہوگا، فتح حاصل ہوگی، دجال واصل جہنم ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور پھر قیامت برپا ہوگی۔

میرا شکوہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بالکل واضح ہونے کے باوجود ہمارے علماء کرام اور واعظ ان حالات کا ذکر نہیں کرتے حالانہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات پہلے سے بیان کئے گئے اور انجام بھی بتایا گیا، ضروری امر ہے کہ آج کے دور کو سامنے رکھیں اور قرآن و احادیث سے فرقہ وارانہ گفتگو کی بجائے، حالات حاضرہ کی بات کریں اور وضاحت سے بتائیں کہ کیا بتایا اور نصیحت کی گئی اور ہم کیا کررہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا، حضرت پیر فضل عثمان کابلی مجددی اور اپنے بزرگ حضرت علامہ ابوالحسنات فرمایا کرتے تھے جس قدر وضاحت سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا کسی اور قوم کے لئے ایسی نصیحت موجود نہیں ہے، اب یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ یہ سب یاد رکھیں، اطاعت رسولؐ پر عمل پیرا ہوں اور بلاؤں کو خود سے دور کرلیں، کیا ہم ایسا ہی کررہے ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں