معیشت سنبھالنے کیلئے کبھی کبھی ٹیکس ناگزیرہوجاتاہے:لبرل وفاقی امیدوار پیٹرفونسیکا

میں کینیڈاکے شہر مسی ساگامیں موجودہوں اوریہاں پیپلزپارٹی کے رہنما اورانجمن آرائیاں کینیڈاکے صدرحاجی محمدجمیل نے پیٹرفونسیکاکوناشتہ پرمدعوکیاہے ۔ پیٹرفونسیکاحکمران لبرل جماعت کی طرف سے وفاقی امیدوارہیں ۔جنہوں نےیہاں اپنی انتخابی مہم بھی چلائی ہم ان سے یہاں کچھ سوال وجواب کرتے ہیں اوران سےپوچھتے ہیں کہ وہ ووٹرزکیلئے کیاپیغام دینگے ۔وہ 4مرتبہ ممبرپارلیمنٹ رہ چکے ہیں اور2مرتبہ صوبائی ممبربھی رہیں ہیں ۔یہ اولمپین بھی ہیں اورمختلف وزارتوں کاحصہ بھی رہے ہیں۔ہم ان سے مستقبل کے لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کرتے ہیں۔ناشتے کی اس دعوت میں مشکورشیروانی ،نوید چودہری، سلیم ملک اور ملک عرفان بابا نے بھی شرکت کی.

نمائندہ جنگ نیوز: جی پیٹرفونسیکاآپ کیسے ہیں ؟

پیٹرفونسیکا: میں بہت مزے میں ہوں۔سب کے ساتھ یہاں ایک ساتھ ہیں انجمن آرائیاں کینیڈاکے صدر حاجی جمیل کےریسٹورنٹ طباق میں جوتقریباً24سال سے مختلف کمیونٹی کے افرادکوسروسزمہیاکررہے ہیں۔آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں مختلف کمیونٹی کے لوگ جمع ہیں یہاں کھانابہت اچھاہے اورہم یہاں ایک اچھادن گزاررہے ہیں۔

نمائندہ جنگ نیوز: جیساکہ آپ ممبرپارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ لوکل گورنمنٹ کابھی حصہ رہے ہیں آپ کیساسوچتے ہیں مستقبل کے حوالے سے کیونکہ کینیڈاان دنوں بڑی مشکل صورتحال کاسامناکررہاہے ۔آپ کی جماعت کے پاس ایساکیاحل ہے کہ کینیڈاان مشکلات سے بآسانی نکل آئے۔

پیٹرفونسیکا: ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مشکلات کینیڈاکی پیداکی ہوئی نہیں ہیں لیکن کینیڈاان مشکلات کاشکارضرورہے ۔صدرٹرمپ اوران کے وزراکہتے ہیں کہ یہ قانونی ٹیکس ہیں ٹھیک ہے لیکن ٹیکس عوام کومشکل میں ڈالتے ہیں ۔اس سے کینیڈا،امریکہ سمیت تمام دنیاکے شہری متاثرہورہے ہیں۔ہمارے رہنماہمارے وزیراعظم مارک کارنی ایک صحیح شخصیت ہیں جوکینیڈاکوان مشکل حالات سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وہ معیشت کوسمجھتے ہیں بلکہ وہ تمام متاثرہونے والے ملکوں کے سربراہان کوصدرٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پرلانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔جس سے ان محصولات کے چنگل سے نکلاجاسکےگا ۔

نمائندہ جنگ نیوز: ہمارے ساتھ یہاں کینیڈامیں بہت سرمایہ دارہیں جوپاکستان میں کاروبارکرتے ہیں لیکن کینیڈاکی طرف سے لگائی گئی سفری پابندیاں آڑے آتی ہیں جس وجہ سے پاکستان اورکینیڈامیں کاروباری روابط ساکت ہیں اوردونوں اطراف کے کاروباری حضرات متاثرہورہے ہیں۔آپ اتنے پرانےاس حکومت کاحصہ ہیں آپ کی حکومت ان سفری پابندیوں کوختم کیوں نہیں کرتی ہے ؟

پیٹرفونسیکا: یہ سب وزارت خارجہ کے زیراہتمام ہوتاہے وہ ان معاملات کے ساتھ ساتھ دنیابھرکے خارجی اوروزارت داخلہ داخلی معاملات دیکھتے ہیں ۔میں سمجھتاہوں یہ سب صرف اورصرف کینیڈاکومحفوظ رکھنے کیلئے کیاجاتاہے اوریہاں میں ایک بارپھرکہناچاہونگاکہ مارک کارنی ایسی شخصیت ہیں جودنیابھرکے لوگوں کےساتھ کام کرناچاہتے ہیں جیساکہ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعدفرانس ،برطانیہ اوریورپی یونین کے رہنمائوں سے بات کی ہے اورمیں سمجھتاہوں کہ ہم اس انتخاب کے بعدایک بارپھرمارک کارنی کووزیراعظم کے عہدے پردیکھیں گے تومیرے خیال میں وہ پاکستانی رہنمائوں سمیت ایشیاکے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی بیٹھے گے تاکہ سفری پابندیوں کے ساتھ ساتھ جوبھی دیگر مسائل کاسامناہے ان کوختم کیاجاسکے۔

کینیڈاایک ایساملک ہے جہاں دنیابھرکے لوگ سمائے ہوئے ہیں اوران میں پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعدادبھی شامل ہے جیسے دوسرے ممالک کے لوگ یہاں آبادہیں ۔تمام لوگ عزت چاہتے ہیں اورمارک کارنی کاموقف بھی یہی ہے کہ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کی عزت کریں اسی طرح اگرصدرٹرمپ بھی دوسروں کی عزت کاخیال رکھیں گے تبھی ان سے کوئی بات چیت عزت کے پیرائے میں کی جائے گی۔میں سمجھتاہوں کہ یہی بہترین راستہ ہے چاہے وہ پاکستان ہویادوسراکوئی ملک ۔

نمائندہ جنگ نیوز: ایک آخری سوال کرناچاہونگاکہ آپ کی ہی حکومت نے کاربن ٹیکس لگایاتھااوراس پرعمل درآمدبھی کردیاتھاجس سے کینیڈاکے رہائشیوں نے کافی عرصہ اس کاسامناکیا میں سمجھ نہیں پارہاکہ کہ لبرل حکومت نے ہی یہ ٹیکس لگایاتھااوراب لبرلزہی نے نئے وزیراعظم مارک کارنی کے آنے پریہ ٹیکس کیوں ختم کردیا؟کینیڈاکی عوام یہ جانناچاہے گی کہ ایک بارآپ ہی کی حکومت ٹیکس لگادیتی ہے اورکچھ مدت بعدآپ ہی کی حکومت اس ٹیکس کوختم کردیتی ہے تواگرٹیکس ختم ہی کرناہوتاہے تولگایاہی کیوں جاتاہے ؟

پیٹرفونسیکا: ایک بارپھرکہونگاکہ وزیراعظم مارک کارنی نے یکم اپریل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کااعلان کیاتوسب خوش ہوگئے کہ ان مشکل حالات میں کچھ سکھ کاسانس ملاجس سے پمپوں پرگیس سستی میسرآئی ۔دوسری طرف ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم تمام کینیڈاکوایک ساتھ لیکرچلیں اورصرف قیمت خریدپرہی ضروریات زندگی کی اشیافراہم کی جائیں۔برٹش کولمبیا،البرٹا،ساسکچیوان،اونٹاریواورشمال سب ایک ساتھ ہیں ۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان کوہرچیزمہیاکریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ معیشت کوبھی ساتھ لیکرچلناہے ۔جس کیلئے کبھی کبھی ٹیکس لگاناناگزیرہوجاتاہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں