ملتان/بہاولنگر/سکھر (نمائندگان)— دریائے چناب اور ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلوں نے جنوبی پنجاب اور سندھ کے کئی اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔
ملتان: دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند، ہیڈ محمد والا ٹریفک کے لیے بند۔ آج 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان۔
بہاولنگر: دریائے ستلج میں چاویکا بہادر کا بند ٹوٹ گیا، کئی بستیاں ڈوب گئیں، مرکزی شاہراہ پر زمینی رابطہ منقطع۔
جھنگ: موضع پکے والا میں 45 سالہ خاتون ڈوب کر جاں بحق۔
ننکانہ صاحب: ہیڈ بلوکی پر اونچے درجے کا سیلاب، متاثرین نے امداد نہ ملنے کی شکایت کی۔
“اعداد و شمار”
24 لاکھ افراد اور 3,200 دیہات متاثر
9.99 لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل
7.8 لاکھ مویشی محفوظ مقامات پر منتقل
395 ریلیف کیمپ، 392 میڈیکل کیمپ، 336 ویٹرنری کیمپ قائم
“سندھ کی صورتحال”
کچے کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی۔
گڈو، سکھر، کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار۔
کوٹری بیراج پر 78 دیہات زیرِ آب، ٹھٹہ میں 100 سے زائد مکانات ڈوب گئے۔
گھوٹکی، سیہون اور نوشہروفیروز میں پانی کی سطح مسلسل بلند، حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کے بعد 13 لاکھ کیوسک کا ریلا گڈو بیراج سے گزرنے کا امکان ہے۔
“محکمہ موسمیات کی پیشگوئی”
آئندہ 24 گھنٹوں میں بالائی علاقوں میں بارش اور آندھی کا امکان۔
الرٹ اسلام آباد، پشاور، لاہور، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور سمیت مختلف ڈویژنز کے لیے جاری۔

