پاکستان میں اقتدار میں آنے والا ہر حکمران چاہے وہ ”جمہوری ہو یا خاکی“ اس کا یہی دعوی ہوتا ہے کہ ملک میں سب اچھا ہے۔ ہر طرف ہرا ہرا ہے، لوگ تین وقت پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں، سب سے بڑی بات ملک میں امن و سکون ہے (حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکمرانی کی طرح آج پاکستان میں کوئی بھی عورت رات کو زیور پہنے گھر سے باہر اکیلی نکل کر اپنی منزل تک پہنچ سکتی ہے) گزشتہ سال 2025ء میں اس ملک میں ہونے والے جرائم، حادثات اور مختلف ایسے واقعات جن میں انسانی جانیں گئیں کے اعداد و شمار دیکھے تو لگتا ہی نہیں ہے کہ ہم کسی ایسے ملک میں رہ رہے ہیں،جہاں قانون پر عملدرآمد ہوتا ہے، قانون پر عمل درآمد کا اس لئے کہا کہ ہر حکومت یہی کہتی ہے کہ عدالتیں فیصلے نہیں کر رہیں، پولیس بھی یہی کہتی ہے کہ ہم ملزم پکڑتے ہیں مگر عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں۔ ایک ادارہ (سی ٹی ڈی) قائم کر کے اس کے افسروں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ جس ملزم کے بارے وہ یہ ”سمجھیں“ کہ یہ موت کی سزا کا حق دار ہے وہ اسے کسی کونے میں لے جا کے ”پھڑکا“ سکتے ہیں۔ سنا تھا سندھ میں ایسا نہیں ہوتا لیکن حیرانی ہوئی کہ سندھ والوں نے بھی پنجاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کراچی میں اپنا ایک ”سی ٹی ڈی“بنا لیا ہے جو کہ ”ایس آئی یو“ کہلاتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اس کے سربراہ کا نام ”عمران خان“ہے۔ یعنی ایس آئی یو کے سربراہ کا نام SSP ڈاکٹر عمران خان ہے۔ کراچی میں گزشتہ سال 40پولیس مقابلے ہوئے جس میں 6 بھتہ خور اور 18 ڈاکو پھڑکائے گئے۔ کراچی والے ”بھتہ خوروں“ کو بھی پھڑکا رہے ہیں یعنی SIU پنجاب کے سی ٹی ڈی والوں سے بہت آگے ہے۔ پنجاب میں تو سی ٹی ڈی کے مقابلے میں گولی نیفے کے اندر بھی چل جاتی ہے۔ تاہم ایسا کوئی واقعہ سندھ میں سننے کو نہیں ملا۔ شاید وہاں پہ ”ریپ کی سزا“ ابھی موت نہیں قرار پائی۔
کراچی اور سندھ سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں گزشتہ سال ڈکیتی مزاحمت میں 89 افراد قتل ہوئے۔ ٹریفک حادثات میں 830افراد مارے گئے۔ شہریوں نے تشدد کرکے 14 ڈاکوؤں کو ہلاک اور 35 کو شدید زخمی کیا ”پولیس کہاں تھی ”کہ موقع پہ پہنچ کر ان ”ڈاکوؤں“کو بچا لیتی۔ گزشتہ ایک سال میں فائرنگ کے واقعات میں 407 افراد ہلاک ہوئے جس میں 33 خواتین تھیں۔ شہر سے 21 تشدد زدہ اور چار بوری بند لاشیں ملیں۔ انتظامی صورت حال بھی ایسی رہی کہ فیکٹریوں، دکانوں کی مکمل چیکنگ نہیں کی گئی لہٰذا ایک پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے پانچ افراد ہلاک اور31 زخمی ہوئے۔ گیس سلنڈروں کی دکان میں سلنڈر پھٹنے سے 11 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ تعمیر کی اجازت دیتے ہوئے ”غفلت کی وجہ“ سے چھت گرنے کے واقعات میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔ ٹرین چونکہ پورے کراچی کے اندر سے گزرتی ہے لہٰذا ٹرین کی زد میں آ کر بھی 51 افراد ہلاک ہوئے۔ حسب ِ معمول سمندر پر جانے والوں میں سے 83 افراد ڈوب کر جان سے گئے۔ کوئی انہیں سمجھا نہیں سکا کہ پانی میں ایک حد سے آگے نہیں جانا۔ کے الیکٹرک کو جب بجلی کا محکمہ سونپا گیا تو بڑی امید تھی حالات بہتر ہوں گے، لیکن کرنٹ لگنے سے 131 افراد جان سے گئے۔ کراچی کی بلدیہ اتنی ”کامیاب“ ہے کہ مین ہولز میں گر کر 25 اور نالوں میں ڈوب کر 13 افراد ہلاک ہوئے۔ کوڑے کے ڈھیروں سے 33 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں۔ منشیات اوور ڈوز سے مرنے والے 381 مردوں اور پانچ خواتین کی لاشیں بھی ملیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 155افراد نے خانگی مسائل، بیروزگاری، معاشی پریشانیوں سے تنگ آ کر خود کشی کر لی۔ سندھ بھر میں 40 پولیس افسر و جوان ڈاکوؤں نے مارے۔ایک اور خاص بات گذشتہ چار برسوں میں سندھ میں 595 افراد کاروکاری میں قتل کیے گئے جس میں 466 خواتین تھیں۔ گزشتہ سال کے 10 مہینوں میں 140 کاروکاری کے کیس ہوئے اور 162 افراد قتل کیے گئے، جس میں 119 عورتیں تھیں یہ صرف سندھ کا ڈیٹا ہے۔
پنجاب میں گزشتہ سال ٹریفک حادثات کے چار لاکھ 82 ہزار واقعات ہوئے، جس میں چار ہزار 791 افراد جاں بحق ہوئے جو 2024ء سے 19 فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب میں جرائم کے 10 لاکھ واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں چار ہزار افراد قتل ہوئے۔ لاہور میں 280 افراد قتل ہوئے اور ڈکیتی کی 2443 وارداتیں ہوئیں۔ پنجاب میں اغوا کی 27 ہزار، اغوا برائے تاوان کی 80، جنسی زیادتی کی 4000، اجتماعی زیادتی کی 1300 اور ڈکیتی کی 60 ہزار وارداتیں ہوئیں، کار چوری کی 12 ہزار اور موٹر سائیکل چوری کی 76 ہزار وارداتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ 22 ہزار مویشی چوری ہوئے۔ پنجاب میں بھتہ خوری کے 625 واقعات ہوئے۔ ملتان میں 70 اور لاہور میں 68 ہوئے، جبکہ فیصل آباد اور بہاولپور میں بھتہ خوری کے 38 – 38 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ سپیشل برانچ کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں شوٹرز کی بڑی تعداد ہے جو 200 کے لگ بھگ ہے۔ یہ شوٹرز قتل کی 573 وارداتوں میں ملوث ہیں۔ ان شوٹرز میں سے 11 پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں اور 13 گرفتار ہیں۔ لاہور میں 107 افراد کو ان نامعلوم شوٹرز نے قتل کیا ہے۔
راولپنڈی میں گزشتہ سال 37 ہزار مقدمات درج کیے گئے۔275 افراد کو قتل کیا گیا۔10افراد ڈکیتی مزاحمت کے دوران مارے گئے۔ اغوا برائے تاوان کے پانچ واقعات ہوئے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں 560 افراد قتل ہوئے۔راہزنی اور ڈکیتی کی 393 وارداتیں ہوئیں۔ موٹر سائیکل چوری کی 342 اور گاڑی چھیننے کے 42 واقعات ہوئے۔ پشاور میں خواجہ سراؤں پر ظلم بڑھتا جا رہا ہے گزشتہ سال 15 خواجہ سرا قتل کیے گئے۔ خواجہ سراؤں کی تنظیم کے مطابق 10 سال میں 157خواجہ سرا بے رحمی سے مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال خواتین پر تشدد کے چھ ہزار 543 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ 2024ء میں ان کی تعداد پانچ ہزار 255تھی، یعنی گزشتہ سال خواتین پر تشدد کے واقعات 25 فیصد زیادہ ہوئے ہیں۔ان واقعات میں 1414 خواتین کو قتل کیا گیا، 1144 خواتین اغواء ہوئیں، 1060 خواتین پر تشدد کیا گیا اور ریپ کے 585 واقعات ہوئے۔ خواتین کی خود کشی کے 649 واقعات ہوئے۔ سب سے اہم بات خواتین پر تشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ اضافہ پنجاب میں ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے 6543 واقعات میں سے 78 فیصد واقعات پنجاب اور 14فیصد سندھ میں ہوئے۔
یہ سارے اعداد و شمار دیکھنے پڑھنے اور لکھنے کے بعد میں بھی متفق ہوں کہ ”ملک میں سب اچھا ہے“۔

