منور ظریف کا پہلا آڈیشن میرے والدآغاسردارعلی نےلیا :آغاسکندرخان

میں آغاسکندرعلی حلف لیتے ہوئے کہتاہوں کہ میں جوکچھ ہوں اپنے بڑوں کی بدولت ہوں۔یہ بات ابھرتے ہوئے اداکارآغاسکندرخان نے اتوارکی چھٹی دوستوں کے ساتھ سٹوڈیوکی سیرکرتے ہوئے بتائی ۔آغانے بتایاکہ اے آر پکچرز لاہور پاکستان فلموں کی کامیابی کاایک مضبوط پلیٹ فارم رہاہے جومیرے تایاابواورمیرے والدمرحوم آغاسردارعلی کی زیرنگرانی کام کرتاتھا۔

1962میں اردوزبان میں بننے والی 36فلمیں میرے والدآغاسردارعلی نے پروڈیوس کیں جوتمام سپرہٹ رہیں۔اونچے محل جوسپرہٹ فلم تھی میں میرے والدنے ایک ولن کاچھوٹاساکرداربھی نبھایا۔اس فلم میں سٹاراداکارشان کی والدہ نیلو کو بریک تھروبھی میرے والد محترم نے دیا۔ شاہ عالم کورنر ویو بلڈنگ ہی میں اے آر پکچرز آفس تھااورنیلو میرے والدآغاسردارعلی سے اداکاری سیکھا کرتی تھی.

منور ظریف کا پہلا آڈیشن بھی میرے والدنےہی لیا تھا اور اپنی تین فلموں میں کاسٹ بھی کیا تھامیرےلئےاعزاز کی بات ہے کہ میں ایک بڑے فلمی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ اےآر پکچرز کے پلیٹ فارم سے بننے والی سپر ہٹ فلموں میں اونچے محل ، انتقام قاتل، بودی شاہ،دلداجانی جیسی فلمیں میرے والد صاحب نے حالات اور کچھ ذاتی مشکلات کے باعث اپنے دوست کودے دیں جو سنیما کی تاریخ میں سپر ہٹ فلمیں ثابت ہوئیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں