ڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ خصوصی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور کارکن اسلام آباد کی طرف احتجاجی تحریک کیلئے تیار رہیں۔ اُنہوں نے 2018 اور 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات دہرائے اور عوامی حقِ رائے کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ “پارلیمنٹ گھر کی لونڈی ہے” اور اسٹیبلشمنٹ کی وہ حیثیت باقی نہیں رہی جو ماضی میں تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ جعلی ایوانوں کو اپنی ٹھوکر پر رکھتے ہیں اور جس جمہوریت کے ہم علمبردار ہیں وہ آئینی، اسلامی اور عوامی نمائندہ جمہوریت ہے۔
اُنہوں نے کارکنوں سے خاص طور پر کہا کہ اپنے نوجوانوں کو بیدار کریں اور انہیں بتائیں کہ ان کا مستقبل کسی غیر ملکی مفادات یا ٹرمپ، یہود یا ہندوؤں کی سیاست نہیں بلکہ مفتی محمود اور اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ مولانا نے کہا کہ سی پیک روٹ آپ کیلئےہے، اسلئےکارکن اسلام آباد کی تیاری کریں۔
مولانا فضل الرحمان نے 1977 کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پورے ملک میں انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو اُس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی اور انہوں نے بار بار کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات بھی چوری زدہ تھے — ان نتائج کو قبول نہیں کیا جائے گا اور جدوجہد جاری رہے گی تاوقتِ انتظام کہ ووٹرز کا حق واپس نہ ملے۔
اُنہوں نے یہ بھی بیان دیا کہ اُن کی سیاست بدتمیزی، گالی گلوچ یا فحاشی کی سیاست نہیں بلکہ اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے، اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کے خلاف وہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ ہدایات اور بیانات ملک کی سیاسی صورتحال میں مزید گرمی پیدا کر سکتے ہیں؛ اُنہوں نے کارکنوں کو نظم و ضبط کے ساتھ اسلام آباد کیلئےتیار رہنے کی تاکید کی ہے۔

