مونٹریال(نامہ نگار) مونٹریال کی عدالت نے رومانے بونئیے کے قاتل فرانسواں پیلتیئر کو پہلے درجے کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ مجرم 25 سال تک پیرول کا اہل نہیں ہوگا۔ فیصلہ مقتولہ کے خاندان اور دوستوں کے لیے انصاف کی جھلک ثابت ہوا، اگرچہ دکھ باقی ہے۔
24 سالہ گلوکارہ اور اداکارہ رومانے بونئیے کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر مونٹریال کی عدالت نے 39 سالہ فرانسواں پیلتیئر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ کم از کم 25 سال تک پیرول کے لیے اہل نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ پیر کے روز سنایا گیا، جسے مقتولہ کے خاندان اور دوستوں نے ایک اہم عدالتی لمحہ قرار دیا۔
رومانے کی قریبی دوست ماریکم الاڑ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”اب سب کچھ ختم ہو گیا، اور انصاف ہوا ہے، لیکن میں نے اپنی ایک دوست اور بہن کھو دی۔ فیصلہ آ گیا ہے، مگر وہ واپس نہیں آئے گی۔”
استغاثہ کی وکیل ماریانا فیرارو نے کہا کہ اگرچہ یہ سزا قانونی طور پر لازمی تھی، لیکن عدالت کی طرف سے دیے گئے تبصرے اور فیصلے کی وجوہات سے وہ مطمئن ہیں، جن میں قاتل کے رویے اور کردار کی سخت مذمت کی گئی۔
یہ اندوہناک واقعہ 19 اکتوبر 2021 کو پیش آیا، جب فرانسواں پیلتیئر نے میک گل یونیورسٹی کے قریب رومانے بونئیے پر سرعام چاقو سے 25 سے زائد وار کیے، جن میں سے کئی مہلک ثابت ہوئے۔ چشم دید گواہوں نے یہ منظر دیکھا۔ رومانے بونئیے ایک ابھرتی ہوئی فنکارہ تھیں جنہوں نے ابھی اپنی فنی زندگی کا آغاز ہی کیا تھا۔
تین سالہ عدالتی کارروائی کے بعد، ایک ماہ پر محیط مقدمہ اور تین دن کی جیوری مشاورت کے بعد گزشتہ ماہ مجرم کو قصوروار قرار دیا گیا۔ اس نے دوران ٹرائل خود اپنی نمائندگی کی اور دماغی بیماری کا سہارا لیتے ہوئے ‘غیر مجرمانہ ذمہ داری’ کا دفاع پیش کیا، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ استغاثہ کے ماہر نفسیات کی گواہی نے اس دفاع کو ناکام بنا دیا۔
جون میں عدالت میں بیان دیتے ہوئے پیلتیئر نے خود اعتراف کیا”میں نے رومانے کو قتل کیا، میں نے اسے 26 بار چاقو مارا۔ یہ ایک منصوبہ بند قتل تھا، جس کا میں نے ’آپریشن ریتھ آف ہیون‘ نام رکھا تھا۔”
سزا سنائے جانے سے قبل رومانے کی جڑواں بہن ماریلو، ان کی والدہ، بھائی اور دوست ماریکم الاڑ نے عدالت میں بیانات دیے۔ ماریلو کے خط نے عدالت کو جذباتی کر دیا، جب کہ ماریکم الاڑ نے کہا”ہماری 22 سالہ دوستی وقت سے پہلے ختم ہو گئی۔ وہ گانے، ناچنے اور ہنسنے والی ایک خوش مزاج لڑکی تھی، جس کی زندگی بے رحمی سے چھین لی گئی۔”
ماریکم کے والد پیئر الاڑ نے کہا”وہ ایک باصلاحیت اور ذہین نوجوان خاتون تھی، جسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔”
عدالت میں بیان دیتے ہوئے مجرم نے اپنے عمل پر کسی قسم کی ندامت یا معذرت کا اظہار نہیں کیا، بلکہ ایک کتاب کا ذکر کیا جسے اس نے لکھا تھا، تاہم جج نے اسے مقدمے سے غیر متعلق قرار دے کر بطور ثبوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

