مِسی ساگا (نمائندہ خصوصی)مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن(MTJF) کے زیرِ اہتمام پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے خصوصی فنڈ ریزنگ تقریب احمدگوریجہ کے ریسٹورنٹ HOTSPOT, Karachi Wali Vibeمیں منعقد کی گئی۔ اس موقع پرفوڈ یوٹیوبر مبشر صدیق نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
اس موقع پر جنگ نیوز کینیڈا کے سی ای او اشرف خان لودھی نے مبشر صدیق کے ساتھ خصوصی گفتگو کی، جو کچھ یوں رہی”.

“جنگ نیوزکینیڈا”.براہِ کرم آئیے۔مبشرصدیق آپ پاکستان سے ایک تحریک لیکرکینیڈاآئے ہیں اور بہت سی بڑی سوشل ورک کرنے والی ٹیمیں چھوڑکرمولاناطارق جمیل کی تنظیم کیوں چنی. پاکستان میں بہت سی بڑی ٹیمیں ہیں۔ آپ نے ایک نئی ٹیم چنی ہے۔ ایک بڑی ٹیم بنانا ہوگی۔مولاناطارق جمیل فاؤنڈیشن بڑی نہیں ہے۔
“جواب”.اس سوال کے جواب میں مبشرصدیق نے کہاکہ میںمولاناطارق جمیل کااس تنظیم کے بننے سے پہلے سے چاہنے والاہوں اور یہی بڑی وجہ تھی ان کے ساتھ کھڑاہونے کی اور انسانیت کی خدمت کرنے کی. وہ ایک امیر خاندان سے ہیں مگردرویش انسان ہیں وہ ایک سادہ انسان ہیں۔
“جنگ نیوزکینیڈا”.آپ کیا سوچتے ہیں؟ پاکستان کی حکومت نے ابھی تک ہنگامی صورتحال کا اعلان نہیںکیا۔ آپ اپنےتیئں رقم جمع کر رہے ہیں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت غریب آدمی کو مرنے دے گی؟ حکومت کا مسئلہ ہمارے حق میں نہیں ہے۔
“جواب”.یہ کہاں سے شروع ہوا؟ میرے ذہن میں بھی ملتی جلتی سوچ تھی۔ میں جتنا ممکن ہو سکتا تھا مدد کرنا چاہتا تھا۔ میں بونیرگیا جہاں دو دیہات تھے جہاں میں مدد کر سکتا تھا۔وہاں بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے اور وہاں کام کررہے تھے۔ لوگ پاکستان کے ہر حصے سے آئے۔ کوئی بھی شہر ایسا نہیں تھا جہاں سےلوگ نہ ہو۔
اب چونکہ یہ علاقہ بہت وسیع ہو گیا ہے، اب مزید لوگوں کی ضرورت ہوگی۔ اب ہم یہ کام فرداً فرداً نہیں کر سکتے۔میں نے دیکھا دیہات میں بہت زیادہ پانی تھا۔ گھر میں رکھے ہوئے چاول اور اناج سب پانی کی نذرہوگیا.یہ سب تنظیمیں کام شروع کر چکی ہیں۔ تمام این جی اوز بہت محنت کرتی ہیں تاکہ لوگوں کو یقین دلایا جا سکے۔
انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔وہ ہماری مدد کےطلبگار تھے اور ہم نے ان کی مدد کی۔ہمیںیہ نہیںسوچناکہ کون کررہاہے ہر کون کیاکررہاہے ہمیں کسی کا انتظار نہیںکرنا یہاں تک کے حکومت کا بھی اس سے ہمیںکوئی سروکار نہیں.ہم نے بڑھتے جاناہے سیلاب متاثرین کی مددکیلئے سب کے ساتھ مل کرکام کرتے ہوئے.
یہ بہت اچھی بات ہے کہ مولانا نے بھی ایک فاؤنڈیشن قائم کی اور آپ اس میں شامل ہیں۔ ہم اس پر بہت خوش ہیں۔بہت شکریہ، سر۔”

