میاں منظور وٹو…… تلخ و شیریں!

حویلی لکھا سے شروع ہونے والا سفر آج (بدھ) وسادے والا میں اختتام پذیر ہو گیا۔ میاں منظور احمد وٹو 86سال کی عمرپا کر اللہ کو پیارے ہوئے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کو سپردخاک کر دیا گیا۔ میاں منظور وٹو درمیانہ طبقہ سے اٹھے، ایک ایسے سیاستدان تھے جنہوں نے اپنا سیاسی سفر بلدیاتی نمائندگی سے شروع کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب تک اقتدار بھی حاصل کیا، میاں منظور وٹو نے جماعتی سیاست کی ابتداء تحریک استقلال سے کی۔ جونیجو لیگ سے پیپلزپارٹی میں آئے پھر الگ ہوئے تاہم آخری وقت اسی جماعت کے پرچم تلے گزارا۔ وہ کافی عرصہ سے علیل تھے اور سیاست کو بستر پر دراز دیکھتے تھے کہ اب ان کی صاحبزادی بھی سیاسی میدان میں ہے۔

میاں منظور احمد وٹو ایک مہذب اور زیرک انسان تھے۔ ان کا ریکارڈ ہے کہ صرف 18اراکین اسمبلی کے ساتھ انہوں نے پیپلزپارٹی سے وزارت اعلیٰ لی اور دوبار اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے، راہ عدم کے یہ مسافر سرد و گرم حالات میں اپنی ساحرانہ مسکراہٹ کے ساتھ وقت گزار گئے اور اپنے دور سیاست میں تنازعات کا شکار بھی رہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے برملا ایوان پنجاب اسمبلی میں ان کے خلاف قادیانیت کا الزام لگایا اور یہ سلسلہ عرصہ تک چلا، اس دوران میاں منظور احمد (مرحوم) کے والد کا انتقال ہوا تو نماز جنازہ کے وقت وہ الگ بیٹھے رہے اور ثابت کیا کہ ان کا اپنا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں اور یہی بات مولانا منظور احمد چنیوٹی کو بھی ماننا پڑا۔

وہ دھیمے لہجے میں مسکرا کر اور لفظ تول اور چبا کر بولتے تھے، میں نے اس حوالے سے اپنی ایک تحریر میں ذکر کیا کہ صاحب موصوف کا طرز تکلم ایسا ہے کہ ان سے دریافت کیا جائے کہ آپ کا نام کیا ہے تو وہ اس مرحلے پر بھی سوچ میں ڈوبے ہوئے شخص کی طرح بولیں گے۔ میاں …… منظور…… احمد…… وٹو، ایک صحافی اور ایک سیاستدان کے تعلق کے حوالے سے ان سے آمنا سامنا رہا، خوشگوار تعلقات رہے لیکن درمیان میں ہلکا پھلکا تنازعہ بھی رہا، خصوصاً جب وہ سپیکر اور میں پریس گیلری کمیٹی کا صدر تھا تو کوریج کی کئی سہولتوں کے حوالے سے تکرار ہو جاتی تھی، خصوصاً جنرل ضیاء الحق کی بنائی کونسل سے صدر کے خطاب کے وقت کوریج کا مسئلہ پیدا ہوا، پریس گیلری کی جگہ بھی انتظامیہ نے حاصل کرلی۔ پریس گیلری کمیٹی برہم تھی۔ چنانچہ کئی ملاقاتو ں میں ٹھنڈی میٹھی گفتگو کے بعد قدیمی پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم کو پریس گیلری کا درجہ دے کر وہاں لائیو ویڈیو کا انتظام کر دیا گیا اور یوں یہ تنازعہ ختم ہو گیا۔

مجھے یاد ہے کہ میاں منظور وٹو سپیکر کی حیثیت سے اراکین کو بات کرنے کے لئے زیادہ وقت دینے کی کوشش کرتے تھے تاہم بسا اوقات وہ کسی رکن کو بولتے بولتے روک بھی دیتے تھے، اسی دوران ایک وہ لمحہ بھی آیا جب اس وقت قائد حزب اختلاف مخدوم زادہ حسن محمود نکتہ اعتراض پر بول رہے تھے تو سپیکر کی حیثیت سے انہوں نے بات ختم کرنے کا کہہ دیا اس پر مخدوم زادہ حسن محمود نے موقف اختیار کیا کہ جب تک کوئی بھی رکن اپنی گفتگو موضوع سے متعلق کرے اور غیر متعلقہ بات نہ ہو اسے (Relenent اور Irreleventکہہ لیں) سپیکر روک نہیں سکتے، سپیکر میاں منظور نے کہا ایسا نہیں تو مخدوم زادہ نے اس پر دلائل دینے کی بات کی اور اگلا دن مقرر ہو گیا۔ دوسرے روز قائد حزب اختلاف مخدوم زادہ حسن محمود کتابوں کے دو بڑے ٹرے بھر کر ایوان میں داخل ہوئے(مخدوم زادہ کی اپنی لائبریری قابل دید اور پڑھنے کے لئے بہت زبردست تھی) اس روز بحث کا آغاز ہوا تو مخدوم زادہ بولتے چلے گئے اور یہ سلسلہ چھ روز تک جاری رہا، آخری روز فیصلہ محفوظ ہو گیا،لیکن آج تک رولنگ نہیں آئی۔

یہ اچھے دور کی بات ہے، جب ایوان میں بات ہوتی تو سنی جاتی، دلائل اور جوابی دلائل ہوتے، سپیکر کی حیثیت سے ان کے تینوں ادوار بہتر رہے تاہم اہم حکمت عملی وہ تھی جب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اکثریت کے لئے بیرونی امداد و تعاون کی ضرورت تھی، ایسے میں منظور وٹو اپنے ساتھیوں کے ساتھ اہمیت اختیار کر گئے اور بالآخر پاکستان پیپلزپارٹی سے سمجھوتہ ہوا اور وہ وزیراعلیٰ بن گئے، اس دور میں ان کے اور پیپلزپارٹی کے درمیان بھی سردی،گرمی رہی تاہم وقت اچھا گزرا، یہ اچھا وقت پھر عدم اعتماد کے شور سے گزرا اور قرعہ فال محترم عارف نکئی کے نام نکلا اور وہ وزیراعلیٰ ہو گئے، شریف اور سادہ تھے بلکہ ان کو بزدار ون بھی کہا جا سکتا ہے۔

میاں منظور احمد وٹو ایک دورمیں گرفتار بھی ہوئے۔ اس وقت میں نے کالم لکھا اور کہاکہ جیل یاترا کے بعد وہ اب سیاسی رہنما بنے ہیں۔ باہمی تکّدر کے باوجود انہو ں نے ذاتی طور پر فون کرکے تحسین کی اور پھر یہ کالم ان کی کتاب میں بھی موجود ہے۔

تمام تر تعلق اور میاں منظور احمد وٹو کے طریق سیاست کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ روائتی مہذب اور بااخلاق انسان تھے، بڑی سے بڑی بات بھی ہنس کر گزارتے تاہم بعض اوقات دل میں رکھی بات بھی سامنے لے آتے تھے۔ وہ پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر بھی نامزد ہوئے اور انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں اپنی رہائش میں دفتر بنایا اور بالآخر یہ جماعت کو دے کر خود دوسرے گھر میں منتقل ہو گئے، اس دوران ان سے بطور صحافی ہلکے تلخ تعلقات رہے کہ وہ بعض سوالات کے حوالے سے بُرا مناتے تھے تاہم مہذب معاشرے کے اچھے فرد کی حیثیت سے بات کبھی تلخی تک نہ پہنچی، اللہ مغفرت فرمائے جانے والے کو، انسان نے تو اسی انجام سے دوچار ہونا ہے باتیں یاد رہ جاتی ہیں۔