اداکار کے مطابق جھنگ کی خواتین قدیم دور سے نہ صرف خوددار بلکہ غیر معمولی مضبوط اور محنتی رہی ہیں
ممبئی (شوبز ڈیسک)سینئربھارتی اداکار انو کپور نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی دادی اور جھنگ کی خواتین کے حوصلے، طاقت اور بہادری کی کہانیاں سناتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنی دادی کی یادوں اور جھنگ کی ثقافت سے گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں۔
انو کپور نے بتایا کہ ان کی دادی جھنگ، پاکستان کی رہائشی تھیں اور ہمیشہ اپنے ساتھ خنجر رکھتی تھیں۔ اداکار کے مطابق اُس دور میں جھنگ کی خواتین نہایت بہادر، خوددار اور مضبوط سمجھی جاتی تھیں جو اپنے گھر، کھیت اور خاندان کی حفاظت کیلئے ہر لمحہ تیار رہتی تھیں۔
اداکار نے انٹرویو میں ایک حیران کن روایت کا ذکر بھی کیا، جو آج کے دور میں سن کر ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، جھنگ میں مشہور تھا کہ اگر کوئی عورت کھیت میں کام کرتے ہوئے بچے کو جنم دے دیتی تو وہ وہیں کھیت میں زچگی مکمل کرتی، بچے کو سنبھالتی، اور پھر دوبارہ بھاری کام پر واپس لوٹ جاتی۔
انو کپور نے کہا کہ ایسی مثالیں اُس وقت کی دیہی خواتین کی جسمانی طاقت، حوصلے، صبر اور ذمہ داری کو ظاہر کرتی ہیں، جو نہ صرف گھر کا بوجھ اٹھاتی تھیں بلکہ کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کرتی تھیں۔
اداکار نے مزید کہا کہ یہ کہانیاں ان کے لیے ہمیشہ فخر اور الہام کا باعث رہی ہیں اور آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ برصغیر خصوصاً پنجاب اور جھنگ کی خواتین نے مشکل حالات کے باوجود گھریلو اور معاشی ذمہ داریاں یکجا کر کے نبھائی ہیں۔
انو کپور کی گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر بھی جھنگ اور دیگر دیہی علاقوں کی خواتین کے حوصلے اور محنت کے حوالے سے متعدد صارفین نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کہانیاں آئندہ نسلوں تک پہنچائی جانی چاہئیں تاکہ نئی نسل اپنی جڑوں، تاریخ اور خواتین کی حقیقی عظمت کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔

