پاکستان میں گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کے سفارتی تحائف کا موسم بھی شروع ہو جاتا ہے جسے ’مینگو ڈپلومیسی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ہر سال وزارت خارجہ، سفارت خانے اور حکومتی اعلیٰ حلقے دنیا بھر کے سربراہان، سفارتکاروں اور بااثر افراد کو پاکستانی آم بھیج کر سفارتی تعلقات کو “مضبوط” کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ آم ہماری سفارتی طاقت بن پائے یا پھر یہ روایت محض مالی بوجھ، وسائل کا ضیاع اور نمائشی پروٹوکول تک محدود ہے؟
“مہنگی روایت”
مینگو ڈپلومیسی پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کی پیکنگ، خصوصی جہازوں یا کوریئر کے ذریعے ترسیل، قونصل خانوں کی تشہیراتی تقاریب اور اس سے جڑی دیگر سرگرمیوں پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب لگایا جائے تو یہ سفارتی آم ملک کے غریب عوام (جوہمیشہ امب چوپتے پکڑی گئی )کیلئےایک تلخ لطیفہ بن چکے ہیں۔
“مقامات اور ممالک”
آموں کی یہ کھیپ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ترکی، سعودی عرب، قطر، عمان،کویت، متحدہ عرب امارات،چین، جاپان اور دنیا کے دیگر درجنوں ممالک میں بھیجی جاتی ہے۔ بعض سفارتخانوں میں خصوصی “مینگو فیسٹیول” منعقد کیے جاتے ہیں جہاں مہمانوں کی تواضع پاکستانی آموں سے کی جاتی ہے۔”پاکستان میں دنیا کے بہترین آم پیداکئے جاتے ہیں اورتقریباً 18 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ پیداوار کے ساتھ دنیا کے چھٹے بڑے آم پیدا کرنے والے ملک ہیں۔”
“سفارتی کامیابی یا نمائشی ناکامی؟ ”
سوال یہ ہے کہ آیا آم کھلا کر تعلقات واقعی بہتر ہو جاتے ہیں؟ اگر سفارتی تعلقات صرف آموں کے تحفوں سے مضبوط ہونے ہوتے تو پاکستان دنیا کی سب سے بااثر ریاستوں میں شامل ہوتا۔ مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی اب بھی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے اور ہم ہر اہم عالمی مسئلے پر یا تو تنہا کھڑے ہوتے ہیں یا دوسروں کی حمایت کیلئےہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
“اندرونی معاشی تناظر”
پاکستان اس وقت 80 ارب ڈالر سے زائد کے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ روپے کی قدر گر چکی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہےاور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئےحکومت کو عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔ ایسے میں مینگو ڈپلومیسی پر کروڑوں روپے ضائع کرنا ایک ایسا طنز ہے جو بھوک سے بلکتے بچوں کے چہروں پر مارا جاتا ہے۔
“متبادل راستہ”
پاکستانی آم دنیا بھر میں ذائقے اور معیار کے حوالے سے بے مثال مانے جاتے ہیں۔ اگر ریاستی سطح پر آموں کی برآمد کو سفارتی تحفے بنانے کی بجائے معاشی طاقت بنایا جائے تو یہ صنعت حقیقی زرمبادلہ کما سکتی ہے۔ پاکستان سالانہ پانچ سے چھ لاکھ ٹن آم برآمد کر سکتا ہے اگر اسے جدید مارکیٹنگ، فوڈ سیفٹی سرٹیفیکیشن اور کولڈ چین لاجسٹکس کے تحت بہتر کیا جائے۔
مینگو ڈپلومیسی ایک وقت میں ایک اچھا جذبہ تھا لیکن اب یہ ایک غیرذمہ دارانہ اور نمائشی فعل میں بدل چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب قوم کے بچے سکول کی فیس، علاج اور خوراک کو ترس رہے ہوں تو آموں کے نام پر مالی وسائل کا ضیاع قومی جرم کے مترادف ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ آم بیچیں، آم کھلائیں نہیں۔ حقیقی سفارت کاری افہام و تفہیم، اصولوں اور مشترکہ مفادات پر کی جاتی ہے نہ کہ تحائف کی بنیاد پر۔

