نئی دہلی(رائٹرز+ای ایف پی+انڈیاٹوڈے+اے پی)دبئی ایئر شو میں بھارت کے تیجس فائٹر طیارے کا جمعہ کو ہونے والا حادثہ بھارت کے دفاعی شعبے کیلئے نیا دھچکا ہے، جس سے اس جیٹ کی بیرون ملک برآمدات کے امکانات ماند پڑ گئے ہیں اور یہ اپنی پیداوار میں بنیادی طور پر بھارتی فوجی آرڈرز پر منحصر رہے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم اس واقعے نے دبئی میں ہونے والے ایئر شو کے اثر و رسوخ پر اثر ڈالا، جہاں بھارت کا بڑا حریف پاکستان بھی موجود تھا۔ حادثے میں ونگ کمانڈر نمانش سیال جاں بحق ہوگئے۔
امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے کہا کہ ایئر شوز میں حادثات نایاب ہو چکے ہیں، اور تیجس کا حادثہ منفی پیغام دیتا ہے، تاہم امکان ہے کہ یہ طیارہ دوبارہ رفتار حاصل کرے گا۔
تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تھا تاکہ پرانے سوویت MiG-21s کی جگہ لی جا سکے۔ ریاستی ملکیت والی کمپنی ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے ملکی آرڈرز کے تحت 180 جدید Mk-1A طیارے خریدے ہیں لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ترسیل میں تاخیر ہے۔
سابق ایچ اے ایل ایگزیکٹو نے کہا کہ دبئی میں حادثے کے بعد برآمدات کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اور آئندہ توجہ ملکی استعمال کے لیے تیجس کی پیداوار بڑھانے پر مرکوز ہوگی۔ ہدف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں دفتر بھی کھولا تھا۔
بھارتی فضائیہ اپنی کم ہوتے ہوئے فائٹر اسکواڈرنز کے بارے میں فکر مند ہے، جو منظور شدہ تعداد 42 سے کم ہو کر 29 رہ گئے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے ایک افسر نے کہا کہ تیجس ان کی جگہ لینے والا طیارہ تھا لیکن پیداواری مسائل کے باعث اس پر انحصار محدود رہے گا۔ بھارت فوری خالی جگہوں کو پر کرنے کیلئےمزید فرینچ رافیلز خریدنے اور موجودہ 40 طیاروں میں اضافہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔
تیجس کی طویل مدتی اہمیت زیادہ تر بیرون ملک فروخت میں نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کے جنگی طیاروں کے پروگراموں کیلئےصنعتی اور تکنیکی بنیاد فراہم کرنے میں ہے۔دبئی ایئر شو میں پاکستان اور بھارت دونوں نے حصہ لیا جہاں پاکستان نے JF-17 تھنڈر بلاک تھری کے مشترکہ ترقی یافتہ ماڈل کی پیشکش کی اور اس کے بروشرز تقسیم کیے۔ پاکستانی ماڈلز کو ’لڑائی میں تجربہ کار‘ قرار دیا گیا۔

