کٹسینا (اے ایف پی/نمائندہ خصوصی) — شمال مغربی نائجیریا کی ریاست کٹسینا میں مسلح ڈاکوؤں نے ضلع مالوم فاشی کے گاؤں اُنگوار مانتاؤ میں نمازِ فجر کے دوران مسجد پر حملہ کیا، جس میں کم از کم 30 نمازی جاں بحق ہو گئے۔ مقامی حکام اور رہائشیوں کے مطابق حملہ آوروں نے قریبی دیہات میں مزید 20 افراد کو زندہ جلا دیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 50 تک پہنچ گئی۔
رہائشی نورا موسیٰ نے بتایا کہ 9 نمازی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد زخمی بعد ازاں دم توڑ گئے۔ مقامی سیاستدان امینو ابراہیم نے ریاستی اسمبلی میں کہا کہ ڈاکوؤں نے نہ صرف مسجد کو نشانہ بنایا بلکہ قریبی دیہات پر بھی حملے کر کے لوگوں کو قتل اور گھروں کو آگ لگا دی۔
نائجیریا کے شمال مغربی اور وسطی علاقوں میں ڈاکو کئی برسوں سے دیہات پر حملے، اغوا برائے تاوان اور مویشی چوری جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہونے والے بعض امن معاہدوں کے باوجود یہ گروہ اپنے ہتھیار محفوظ رکھتے ہیں اور دیگر علاقوں پر حملے جاری رکھتے ہیں۔
مقامی آبادی نے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ریاستی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

