نامناسب اشارے: نشتر ہسپتال ملتان نے ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کردیا

ملتان (نامہ نگار)نشتر ہسپتال ملتان نے مریضہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ بدسلوکی اور نامناسب اشارہ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر ڈاکٹر قاسم جمال کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر کو بدانتظامی، اسپتال قوانین اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی پر فوری طور پر فارغ کیا گیا۔

وائرل ویڈیو میں لواحقین کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے خون کی منتقلی نہ ہونے کے باعث مریضہ کا انتقال ہوا، جبکہ بعد ازاں ڈاکٹر کو درمیانی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے وہاں سے جاتے دیکھا گیا۔ واقعے کے ایک روز بعد 19 دسمبر کو ڈاکٹر کو معطل کیا گیا تھا اور انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کے بعد برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی 20 دسمبر کی رپورٹ کے مطابق مریضہ کو نہایت تشویشناک حالت میں لایا گیا، ایمرجنسی میں علاج جاری تھا اور خون کی منتقلی کے لیے دوسرے وارڈ منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی، تاہم حالت بگڑنے پر خون کی منتقلی ممکن نہ رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لواحقین کے مشتعل رویے کے بعد ڈاکٹر نے بھی نامناسب ردعمل دیا، جبکہ مریضہ کو مناسب اور بروقت علاج فراہم کیا گیا۔

دوسری جانب ڈاکٹر قاسم جمال نے بیان میں اپنے ردعمل کو مسلسل ہراسانی اور حملوں کے خلاف احتجاجی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضہ کا فعال علاج جاری تھا مگر بعد میں حالت مزید بگڑ گئی اور انتقال ہو گیا۔ ان کے مطابق لواحقین نے ہنگامہ آرائی، گالم گلوچ اور جسمانی تشدد کی کوشش کی، جبکہ سیکیورٹی میں بھی غفلت رہی۔ ڈاکٹر نے تسلیم کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھے، تاہم تحقیقات کے بغیر معطلی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے بحالی کی درخواست کی۔