ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) مترجمہ نسیم سیّد کی کتاب ’’مگر ہم ہیں (کینیڈا کے حقیقی باشندوں کے لاجواب افسانے)‘‘ شائع کردی گئی ہے جسے ادبی حلقوں میں توجہ حاصل ہورہی ہے۔
گزشتہ دنوں ادیبہ شہناز شورو کی مصنفہ سے ملاقات کے دوران ادبی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا جس میں رفاقتوں، یادوں اور ادب کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر نسیم سیّد کی کتاب انہیں پیش کی گئی جس پر شہناز شورو نے کتاب کے مندرجات اور اس کے فکری پہلوؤں کو سراہتے ہوئے اپنے تاثرات قلمبند کیے۔
شہناز شورو کے مطابق ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ سچ، مزاحمت اور انسان دوستی کا اظہار ہے، جبکہ وہ کتاب جو مظلوم کی آواز کو طاقت کے ایوانوں تک پہنچائے، حقیقی معنوں میں زندہ ادب کہلاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نسیم سیّد نے شمالی امریکا میں رہتے ہوئے مقامی باشندوں کی قدیم تہذیبوں، گیتوں اور کہانیوں کو اجاگر کرنے کی اہم کوشش کی ہے، جو سامراجی بیانیوں کے مقابل ایک زندہ روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔
کتاب کی اشاعت مثال پبلشرز فیصل آباد نے کی ہے جبکہ ادارے کے سرپرستِ اعلیٰ محمد عابد کی ادبی خدمات کو بھی سراہا گیا جنہوں نے کتاب کی اشاعت اور ترسیل میں خصوصی تعاون فراہم کیا۔

