نظام اچھاتو ملک بھی اچھا اور طاقتور!

پاکستان اور پوری دنیا میں ساٹھ اور ستر کی دہائیاں دنیا میں سردجنگ کے دور والی تھیں، تب روس نہیں یو ایس ایس آر تھا، امریکہ اور بائیں بازو کے درمیان شدید محاذ آرائی ہوتی جس کے اثرات دنیا بھر کے ممالک پر تھے۔ پاکستان بھی اس سے مبرا نہیں تھا،یہاں بھی ایشیا سرخ اور ایشیا سبز ہے کی نعرہ بازی ہوتی جو دائیں اور بائیں کی شدید مخالفت کا ذریعہ بن گئی تھی، میں نے جب 1963ء میں روزنامہ امروز میں قدم رکھا تو یہاں سوشلزم کی پکار تھی اور سب بڑے بھی قریباً سوویت روس کے ساتھ دم بھرتے تھے، یوں یہ رنگ وہاں کام کرنے والوں پر بھی چڑھا لیکن سبھی متاثر نہیں ہوئے تھے۔ میں علماء کرام کی خدمت کرتے کرتے یہاں آیا اس لئے یہ رنگ ذرا دیر میں چڑھا، لیکن تب جب ذوالفقار علی بھٹو سیاست میں آئے اور اپنی جماعت تشکیل دی، اس جماعت کے چار ابتدائی نعروں میں اسلام ہمارا دین ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے، چنانچہ میرے جیسے لوگ بھی ترقی پسند ہو گئے تھے، اس دور ہی سے ذہنی طور پر امریکہ کی حاکمیت کے خلاف رہا ہوں اور آج بھی امریکی جارحیت اور تکبر کا مخالف ہوں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ فوجی حیثیت سے بھی دنیا میں اکیلی طاقت رہ گیا اور دنیا یونی پولر ہوگئی۔ پھر امریکی حکمرانوں نے ان کا تعلق ری پبلیکن سے ہو یا ڈیمو کریٹک پارٹی سے ان کی طرف سے دنیا پر حکمرانی کا بھوت سوار ہوا اور اب تک ہے۔1974ء کی اسلامی کانفرنس کے بعد سے تو ہم جیسے حضرات کا ذہن مزید مخالف ہوا اور پھر شاہ فیصل، کرنل قذافی، جمال عبدالناصر اور یاسر عرفات جیسے رہنماؤں کی اموات اور بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی نے دل اور بھی بُرا کیا جبکہ عراق، لیبیا، لبنان، شام، اردن اور اب غزہ کے حالات نے مزید پختگی عطا کی۔

اس طرح میں اور میرے جیسے چند اور لوگ پکے مسلمان ہوتے ہوئے امریکی حکام کی اس بالادستی اور مسلمان دشمنی کے خلاف رہے اور اب تک ہیں، ہم بھی اپنے ملک کی ترقی کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں بھی ایسا نظام ہو جس میں کوئی استحصالی پہلو نہ ہو اور عوام کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے اپنے عمال کی وجہ سے اس خواب کے پورا ہونے کا دور دور تک پتہ نہیں اور ہمارے چاروں اوٹ ایلیٹ کلاس (اشرافیہ) نظر آتی ہے حتیٰ کہ کینال روڈ پر پراڈو،لینڈ کروزر اور مرسیڈیز والے بھی خود کو اسی کلاس میں شمار کرنے لگے ہیں،ہماری آج کی پالیسیاں بھی ایسی ہیں جن سے ایلیٹ کلاس ہی نظر آتی ہے۔ چاروں اوٹ ایسا ہی ہے اور اب تو ہم صحافیوں (جن کا پیشہ جرنلزم ہے) کو بھی خوف کے سائے میں وقت گزارنا پڑتا ہے۔ ایلیٹ کے ساتھ افسر شاہی بھی ہمارے ملکی مسائل کا باعث ہے اگرچہ سب عوام کا دم بھرتے ہیں، ہمارا ملک ترقی پذیر کہلاتا اور ہمارے حکمران دن رات ترقی کی دوڑ میں مصروف ہیں دن کا چین اور رات کی نیند بھی حرام کی ہوئی ہے، لیکن نظام کی اصلاح کے لئے کچھ کام نظر نہیں آتا اس لئے طاقت کا قانون رائج ہے، وہ چاہے، دولت کا ہو،لاٹھی کا ہو یا بندوق کا ہو!

بات دور نکل گئی، ذکر امریکہ کا تھا، میں عرض کر چکا کہ امریکی مقتدرہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنائے ہوئے ہے اور اب موجودہ صدر ڈونلڈ تو خاصے کی چیز ہیں جن کی پالیسیوں میں یکطرفہ انصاف اور طاقت کا استعمال بذریعہ تجارت شامل نظر آ رہا ہے، امریکی معاشرہ بھی کوئی مثالی معاشرہ (دین داروں کی نظر میں) بھی مثالی نہیں، لیکن امریکہ پھر بھی واحد طاقت شمار ہوتا ہے اور ٹرمپ برملا کہتے ہیں کہ امریکہ کے پاس جو اسلحہ ہے وہ اس کرہ ارض (دنیا) کو پندرہ مرتبہ تبا ہ کر سکتا ہے(نعوذ باللہ یہ تو ایک ہی بار ہونا ہے، جب صور پھونکا جانا ہے) یوں یہ غرور اور دھمکیاں سب امریکی طاقت کے بل بوتے پر اور امریکہ کی ترقی کے باعث ہیں۔

میں نے یہ سب تمہید اسی حوالے سے باندھی کہ امریکہ میں جو نظام رائج ہے وہ اس کی ترقی کا باعث ہے جس کا ایک ثبوت نیویارک کے میئر کے حالیہ انتخاب میں مل گیا کہ ایک تارک وطن مسلمان ممدانی امریکی صدر ٹرمپ کی کھلی مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود نیویارک کا میئر منتخب ہو گیا اور ٹرمپ کے حامی امیدوار نے اپنی شکست قبول کرکے اسے مبارکباد بھی دی، مجموعی طور پر پورے ملک (ریاست ہائے متحدہ)میں یہی صورت حال ہے، اگرچہ ٹرمپ کی وجہ سے اس کے پہلے انتخاب اور حالیہ کامیابی کے بعد انتخابی عمل پر بعض اعتراض ہوئے اور اب ٹرمپ نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے علاوہ بعض اصلاحات کا بھی اعلان کیا ہے اس کے باوجود امریکی نظام انتخاب اور مجموعی نظام ہی کی یہ خوبی ہے کہ آج نیویارک کا مسلمان منتخب میئر امریکی صدر کو للکار رہا ہے۔ اسی عمل کو آپ برطانیہ کے نظام سے مماثلت کے حوالے سے دیکھ لیں تو وہاں بھی آپ کو ریاستی نظام ہی طاقتور نظر آتا ہے۔ یوں صدارتی نظام اور پارلیمانی طرز حکمرانی والے دو ممالک ترقی یافتہ ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا ملکی نظام ہے جو اب تک محفوظ چلا آ رہا ہے۔ یہ الگ بات اور مسئلہ ہے کہ ان دونوں ممالک کی حاکمیت اعلیٰ بھی مسلمان دشمن ہے اور ان کی پالیسی کبھی بھی مسلمان دوست نہیں رہی اور مسلمان ممالک کو اپنی لوٹ کے لئے ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے، اب تو غزہ بہت بڑی مثال ہے۔دنیا کے انہی ترقی پسند ممالک کے عوام کی بھاری ترین اکثریت اسرائیل کے مظالم کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتی چلی آ رہی ہے لیکن حکمرانوں نے نسل کشی کے خلاف بھی کچھ نہیں کیا، بیانات سے گذارہ ہوا، امریکہ نے کھلم کھلا اسرائیل کی حمایت کی اور حماس کی مخالفت میں نسل کشی کو بھی جائز قرار دیا، امریکہ ہی نے سلامتی کونسل میں وہ تمام قراردادیں ویٹو کیں جو غزہ میں جنگ بندی اور نسل کشی روکنے کے حوالے سے تھیں اور اب جو ادھوری سی جنگ بندی ہے (اسرائیل فائدہ اٹھا رہا ہے) اس کا کریڈٹ بھی ڈونلڈ ٹرمپ صاحب لے رہے اور اسرائیل کی جاری جارحیت اور مظالم کو بھی حماس کے کھاتے میں ڈالے جا رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ نیک نیتی سے ایک بار اسرائیل کو حتمی طور پر کہیں تو وہ اپنی ان تمام زیادتیوں سے باز آ سکتا اور افواج بھی واپس لے جا سکتا ہے۔

موضوع ایسا ہے کہ لسی میں پانی ڈالنے اور مدانی چلانے والی بات ہے، تاہم عرض کروں گا کہ اگر ہم نے بھی ترقی کرنا ہے تو اپنا نظام صاف اور شفاف بنانا ہوگا جس میں استحصال کی گنجائش کم سے کم ہو کہ اچھا نظام برائی کی قوتوں کو بھی طاقت دیتا ہے اور ہم تو حق پرست ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں