نوازشریف کے دامادعلی مصطفیٰ ڈاروزیراعلیٰ پنجاب کےمشیرمقرر

لاہور/لندن (نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے علی مصطفیٰ ڈار کو مصنوعی ذہانت اور خصوصی اقدامات کے شعبے میں اپنا مشیر مقرر کردیا ہے، جس کے ساتھ صوبے میں جدت پر مبنی پالیسی سازی، ٹیکنالوجی کے فروغ اور اے آئی سے متعلق منصوبوں کیلئےایک نیا شعبہ قائم کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مشیر کو صوبائی وزیر کا درجہ اور اختیارات حاصل ہونگے اور وہ مروجہ قوانین کے تحت پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت بھی کرسکیں گے۔ تقرری کا نوٹیفکیشن فوری طور پر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

وہ نواز شریف کی صاحبزادی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہمشیرہ اسماء نواز شریف کے شوہر ہیں۔ وہ سینیٹر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے ہیں۔وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ برطانیہ میں قیام کے دوران اسحاق ڈار اور نواز شریف کے ساتھ رہے اور تقریباً تین سال قبل پاکستان واپس آئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علی مصطفیٰ ڈار اپنی نئی ذمہ داریوں میں مستقبل بین منصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد پر توجہ دیں گے، جن کا مقصد گورننس میں بہتری، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے، خصوصاً ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کو فروغ دیا جائے گا۔

علی مصطفیٰ ڈار کا تعلق سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سن 2000 میں اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ کا رخ کیا، جہاں یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف مانچسٹر انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (یو مسٹ) سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔

ذرائع کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد وہ پس پردہ مختلف قومی نوعیت کے امور میں رضاکارانہ طور پر متحرک رہے۔ بین الاقوامی سطح پر دو دہائیوں سے زائد تجربہ رکھنے والے علی مصطفیٰ ڈارنے مبینہ طور پر ٹیکنالوجی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے وابستہ عالمی کاروباری شخصیات کے پاکستان کے دوروں اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری میں کردار ادا کیا، جن میں اسلام آباد اور لاہور کے دورے بھی شامل ہیں۔

علی مصطفیٰ ڈارآٹزم سے متعلق آگاہی کے حوالے سے بھی متحرک رہے ہیں۔ وہ آٹزم کے شکار بچوں کی معاونت سے متعلق مختلف اقدامات سے وابستہ رہے اور سوشل میڈیا پر اس موضوع کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔ ان کے 18 سالہ بیٹے ابراہیم کو آٹزم ہے، جس کا وہ متعدد مواقع پر ذکر کرچکے ہیں۔

نجی شعبے میں علی مصطفیٰ ڈارایچ ڈی ایس گروپ آف کمپنیز کے بانی ہیں اور 2024 تک اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے۔ متحدہ عرب امارات میں قائم یہ کاروباری گروپ بنیادی طور پر رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں سرگرم ہے، جبکہ اب اس کے انتظامات ان کے چھوٹے بھائی حسنائن در دیکھ رہے ہیں۔