نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے نہیں دیا تو مریم نواز کی کیا حیثیت ہے:نثارکھوڑو

کراچی(نمائندہ خصوصی) — پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے متنازع کینال منصوبے سے متعلق حالیہ بیانات کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سخت نوٹس لے اور واضح پارٹی پالیسی سامنے لائے۔

سیلاب متاثرین کی امداد کے حوالے سے شروع ہونے والی بیان بازی نے اب دریائے سندھ کے پانی کے حقوق کے مسئلے کو نئی سمت دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حال ہی میں پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی”نصیحتیں اپنے پاس رکھیں”، جس پر پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے احتجاجاً پارلیمانی کارروائی سے علیحدگی اختیار کرلی۔

بعد ازاں اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں تنازع ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، مریم نواز نے ایک روز قبل اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی سے کسی صورت معافی نہیں مانگیں گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز پنجاب کے عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں کیونکہ ان کی حکومت “فارم 47 کی پیداوار” ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے آج اپنے بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ریمارکس کو سی سی آئی کے فیصلے کی خلاف ورزی اور آئینی فورم کی توہین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ “مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی فورم نے متنازع کینال منصوبے کو مسترد اور دفن کر دیا ہے، لہٰذا مریم نواز اس فیصلے سے بالاتر نہیں ہیں۔ ان کی کوئی حیثیت سی سی آئی کے سامنے نہیں۔”

نثار کھوڑو نے واضح کیا کہ “جب تک تمام صوبے متفق نہیں ہوں گے تب تک کوئی نیا کینال منصوبہ نہیں بن سکتا۔ سندھ کو کسی بھی متنازع کینال منصوبے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ قبول ہے۔”

یاد رہے کہ 28 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کے منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔یہ منصوبہ ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جسے سندھ حکومت نے وفاقی وحدت کے منافی قرار دیا تھا۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ “مریم نواز کو اپنے صوبے کے اندر اپنے دریاؤں پر ڈیم بنانے سے کسی نے نہیں روکا، مگر اگر وہ سندھو دریا پر لنک کینالز یا ڈیم بنانے کی بات کریں گی تو سندھ کسی صورت اجازت نہیں دے گا۔
جب نواز شریف کالاباغ ڈیم نہیں بنا سکے تو مریم نواز کی کیا حیثیت ہے؟”

انہوں نے خبردار کیا کہ “سندھ اپنے دریا کے پانی پر کسی کو ڈاکا ڈالنے نہیں دے گا، کیونکہ آئینی طور پر پانی پر پہلا حق ٹیل والے صوبے سندھ کا ہے۔ سندھ کے پانی پر حملہ دراصل صوبائی وحدت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔”

نثار کھوڑو نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ “پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں۔ پیپلز پارٹی سمیت ہر سیاسی جماعت کو وہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے۔”

پیپلز پارٹی رہنما نے الزام لگایا کہ مریم نواز کی حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد کے حوالے سے محض دعوے کیے ہیں۔ان کے مطابق،”پنجاب کے سیلاب متاثرین آج بھی امداد کے منتظر ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے جان بوجھ کر پانی کے بہاؤ کا رخ غریب کسانوں کی زمینوں کی طرف موڑ کر ان کی فصلیں تباہ کیں تاکہ امیر طبقے کے بنگلوں کو بچایا جا سکے۔”

پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آنے والا یہ سخت مؤقف اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ پانی کے حقوق اور بین الصوبائی منصوبوں پر اختلافات ایک بار پھر وفاقی سطح پر سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں